تحریر: محمد رضا سید
مشرقی یمن میں عسکری صورتحال ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے خطے میں کشیدگی کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے،مشرقی یمن میں فوجی منظرنامہ اس وقت بدلنا شروع ہوا جب سعودی عرب اور عمان کے درمیان اعلیٰ سطح کے غیر معمولی رابطے سامنے آئے، ماسکو میں ہونے والی ایک اہم ملاقات میں سعودی اور عمانی فضائی افواج کے سربراہان نے شرکت کی جو کئی برسوں بعد اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور عمان کے درمیان فوجی رابطے دراصل اس بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد یمن کی مشرقی سرحدوں پر امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند قوتوں کی پیش قدمی کو روکنا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مداخلت آج بھی انہی مقاصد سے جڑی ہے جو2025ء میں یمن کے خلاف جنگ کے آغاز پر تھے تاہم متحدہ عرب امارات کے حالیہ عسکری پیشقدمی نے شمال اور جنوبی یمن کے درمیان علیحدگی کو ہوا دے کر ایک طویل جنگ مسلط کرنےکی ہے، جس میں امارات اور سعودی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آچکے ہیں۔
اس حکمت عملی میں متحدہ عرب امارات مرکزی کردار ادا کر رہا ہےجو علیحدگی پسند تنظیموں پر مشتمل جنوبی عبوری کونسل کی سرپرستی کر رہاہے، جنوبی عبوری کونسل کی حالیہ عسکری پیشقدمی نے عمانی اور سعودی سلامتی کیلئے خطرات پیدا کردیے ہیں جبکہ یمنی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کی ارضی سالمیت کیلئےیمنیوں کو کسی بھی غیر ملکی زمینی مداخلت کے خلاف متحد ہونا ہوگا، دوسری جانب عمان نے یمن کی مشرقی سرحد کے قریب فوجی نقل و حرکت اور فضائی نگرانی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب نے صوبہ المہرہ میں فوجی دباؤ بڑھایا، جہاں جنگی طیاروں کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں اور علیحدگی پسند ٹھکانوں کے اوپر وارننگ فلیئرز داغے گئے، اماراتی پراکسی فورسز کا دعویٰ ہے کہ حضرالموت میں ان کے ٹھکانوں کو سعودی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی دوران غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا اور سادہ لباس مسلح افراد کو تعینات کیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات یمن کیلئے ریاض کی حکمت عملی کے پیچھے کھڑے ہونے کے بجائےاپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھارہا ہے اس کا مقصد یمن کے ساحلی علاقوں اور مشرقی یمن کے تیل اور معدنی ذخائر کیلئے حضرموت پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، اس کے برعکس سعودی عرب کا مؤقف مختلف دکھائی دیتا ہے، جس نے پہلے جنوبی عبوری کونسل کی سرگرمیوں کے خلاف انتباہ جاری کیا اور بعد ازاں ان کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی بھی کی، یمنی سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام صورتحال ایک منظم سازش کا حصہ نظر آرہی ہے جسے یمنی عوام کو سمجھنا ہوگااور وطن کی آزادی کے لئے صنعاء میں موجود سیاسی قیادت کے تحت متحد ہونا ناگزیر ہوچکا ہے،اسی دوران سعودی حمایت یافتہ فورسز نے اشرد کے علاقے میں اماراتی پراکسی فورسزکے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن بھی شروع کیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
ریاض نے مشرقی یمن کے صوبوں شبوا، المہرہ اور حضرالموت کو نو فلائی زون قرار دے دیا ہے جبکہ بحیرہ عرب میں واقع اسٹریٹجک جزیرے سقُطریٰ کے لئے اماراتی پروازوں کی اجازت منسوخ کردی ہے، جہاں امارات نے اسرائیل کے تعاون سے مواصلاتی انٹیلی جنس جمع کرنے کےمراکز قائم کئے ہوئے ہیں، ریاض کے اِن اقدامات نے ابوظہبی کو مشتعل کردیاہے اور صورتحال دن بدن کھلی دشمنی میں تبدیل ہورہی ہے جوکہ خطے میں عدم استحکام کے ذریعے پوری دنیا کو متاثر کرئے گا، اسی دوران امریکہ نے اماراتی قیادت سے رابطے بڑھائے ہیں، بظاہر ریاض کو اطمینان دلایا جارہا ہے کہ علاقائی پھیلاؤ کی خاطر امارات اور اسرائیل کے مشترکہ اقدامات کو سعودی حاکمیت اعلیٰ کیلئے خطرہ بننے نہیں دیا جائے گا۔
اسی خطے کا اہم ملک ایران ہے جو اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کے بعد تھکاوٹ کا شکار ہےاور اسرائیل کی مستقبل قریب میں کسی بھی ممکنہ جنگی مہم جوئی کے مقابلے کیلئے تیار یوں میں مصروف ہے، جون میں اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کی فضائی حدود جس طرح کمپرومائس ہوئی ایرانی مقتدرہ اس نقص کو دور کررہی ہے، مشرقی یمن میں حالیہ عسکری نقل و حرکت اور علاقائی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو ایرانی میڈیا محض ایک مقامی تنازع نہیں بلکہ خطے کی بڑی اسٹریٹجک بساط کا حصہ قرار دے رہا ہے، تہران کے نزدیک یہ پیشرفت یمن کی وحدت، بحیرۂ احمر کی سلامتی اور مزاحمتی محور کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے، ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق مشرقی یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل یمن کو شمال اور جنوب میں تقسیم کرنے کی نئی کوشش ہے اور ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ یمن کی تازہ صورتحال پر ایران کسی نہ کسی سطح پر سعودیوں کا ہم خیال نظر آتا ہے، عمان جو ایران کا اہم اتحادی ہے سعودیوں کیساتھ عسکری کارروائیوں میں شریک ہے۔
جوں جوں سعودی عرب اپنے اقدامات سخت کر رہا ہے اور عمان عملی طور پر متحرک ہورہا ہے، مشرقی یمن ایک نہایت حساس اور غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، علاقائی مبصرین خبردار کررہے ہیں کہ بدلتی ہوئی یہ صورت حال علاقائی اتحادیوں کی نئی صف بندی پر منتج ہورہی ہے بلکہ پہلے سے نازک حالات میں مزید محاذ آرائی کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
منگل, جنوری 6, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

