Close Menu
Meezan News

    With every new follow-up

    Subscribe to our free e-newsletter

    اختيارات المحرر

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    دسمبر 29, 2025

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, جنوری 19, 2026
    رجحان ساز
    • ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
    • یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
    • غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
    • پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
    • پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
    • ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
    • امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
    • حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!
    Meezan NewsMeezan News
    For Advertisment
    • ہوم
    • بریکنگ نیوز
    • تازہ ترین
    • پاکستان
    • عالم تمام
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • فن و فرھنگ
    • کالم و بلاگز
    • ہمارے بارے میں
    • رابطہ
    Meezan News
    You are at:Home»عالم تمام»امریکی صدر کے 20 نکات ردی دان کی نذر ہوگئے، حماس کے 8 نکات جنگ بندی کی بنیاد ہوں گے
    عالم تمام

    امریکی صدر کے 20 نکات ردی دان کی نذر ہوگئے، حماس کے 8 نکات جنگ بندی کی بنیاد ہوں گے

    انشاء اللہ غزہ ہی نہیں آزاد فلسطینی ریاست میں حماس کا سیاسی کردار دوام ملے گا اور جب تک فلسطین اپنی مسلح افواج تشکیل نہیں دیتا حماس کی عسکری طاقت ہی فلسطینوں کی عسکری طاقت بنی رہے گی
    shoaib87اکتوبر 9, 2025Updated:اکتوبر 9, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    تحریر: محمد رضا سید
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، پاکستان، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کیساتھ ملکر غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے متعلق تل ابیب کے اہداف کی تکمیل کیلئے ذلت آمیز معاہدے کی صورت میں فلسطینیوں پر مسلط کرنے کی جو سازش کی تھی وہ مسلمانوں کے فوری ردعمل اور حماس کے مذاکرات کاروں کی کاوشوں سے ناکام ہوچکی ہے، پاکستانی مسلمانوں نے ٹرمپ کے 20 نکات کی سب سے زیادہ مخالفت کی اور پاکستان کی حکومت کو 24 گھنٹے کے اندر مجبور کردیا کہ وہ ٹرمپ کے 20 نکات سے پیچھے ہٹ جائے، پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے 3 اکتوبر 2025ء کو قومی اسمبلی میں بیان دیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جن 20 نکات کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا ہے، وہ ہمارے نہیں ہیں، اس مسودے (ڈرافٹ) میں تبدیلی کی گئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی ڈرافٹ نہیں ہے جو پاکستان اور دیگر اسلامی ملکوں نے مل کر تیار کیا تھا، بلکہ بعد میں اس میں ترامیم کی گئیں، انہوں نے بتایا کہ پاکستان سمیت آٹھ مسلم و عرب ممالک نے پہلے نیویارک میں ملاقات کی، جہاں انہوں نے امریکی پیشکش کی بنیاد پر اپنا ڈرافٹ تیار کیا، اس بات پر زور دے رہے تھے کہ پاکستانی موقف اور فلسطین سے متعلق پالیسی وہی ہے جو قائد اعظم کی تھی، اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، پاکستان کی حمایت ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کیلئے ہے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو جبکہ اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے20 نکاتی امن منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے منصوبے کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے، اُنھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے خارجہ پالیسی مشاورت کرنے کا عندیہ بھی دیا اور کہا ہم ایک پیج پر ہیں، وزیراعظم شہباز ملکی سیاست کی نبض کو سمجھ رہے تھے کہ ٹرمپ کے 20 نکات کی حمایت تو کردی ہے مگر اس پر عوامی ردعمل سنکیں آئے گا جس کا وہ اکیلے بوجھ نہیں اُٹھا سکتے لہذا اُنھوں نے ضروری سمجھا کہ آرمی چیف کو بھی بوجھ ڈھونے والوں میں شامل کرکے اپنا بوجھ تقسیم کرلیا جائے کیونکہ ہمارے فلڈ مارشل بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے وقت وہاں موجود تھے، غالب امکان تو یہی ہے کہ صدر ٹرمپ سے وزیراعظم کی جس ملاقات میں فلیڈ مارشل شامل تھے وہاں غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے 20 نکات زیر بحث آئے ہی نہیں ہوں کیونکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ بھی بتاچکے ہیں کہ مسلم اور عرب ملکوں نے امریکی حکام کیساتھ ملکر قطر کے سفارتخانے میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا مسودہ تیار کیا تھا۔
    ستمبر کی 30 کو پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کیلئے غزہ امن منصوبے کی مخالفت کی جارہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ وہاں معصوم شہریوں کا خون بہتا رہے، خدارا کسی چیز میں تو سیاست کو نہ لائیں امن منصوبے پر سیاست نہ کی جائے، چاہتے ہیں کہ غزہ کے عوام کی تکالیف ختم ہوں، اس معاملے پر بہت زیادہ کام ہوا، بات چیت کے کئی دور ہوئے، گزارش ہے کہ اچھے کام کو متنازع نہ بنائیں فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے اور فلسطینی عوام کیلئے منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت پر برادر ممالک اور امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پُرعزم ہے، اس پریس کانفرنس میں جناب اسحاق ڈار کے مخاطب پاکستان کے عوام تھے، جنھوں نے ٹرمپ کے 20 نکات کو یکسر مسترد کردیا تھا، اسحاق ڈار کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کیلئے امریکہ کیساتھ ملکر کام کرنے کے عزم کا اظہار وفاقی حکومت کا کم ازکم 30 ستمبر 2025ء تک صدر ٹرمپ کے مذموم منصوبے میں ساتھ ہونا ثابت کرتا ہے، پاکستان کی اتحادی حکومت کا 30 ستمبر سے 3 اکتوبر تک کا سفر آسان نہیں تھا، اس دوران پاکستان کے تمام سیاسی اور مذہبی مکاتیب فکر نے وفاقی حکومت کو اس خیانت کا موردالزام ٹہرانا شروع کردیا تھا سوشل میڈیا پر حکمرانوں کو یہودی ایجنٹ تک کہا گیا حالانکہ یہ شرمناک حرکتیں تھیں اور اس عمل میں سیاسی مخالفین نے بھی اپنا بھرپور حصّہ ڈالا لیکن اچھا ہوا کہ صدر ٹرمپ اپنے 20 نکاتی مذموم منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے اور دوبارہ حماس کیساتھ مذاکرات کئے اور اب اُمید ہوچلی ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا وقت ختم ہورہا ہے۔
    غزہ میں فلسطینیوں کی مزاحمت نے اسرائیل کو عالمی سطح پر بےنقاب کیا اور اس ملک کے خارجہ تعلقات کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے کافی عرصہ لگے گا کہ تل ابیب مغربی عوام میں اپنے لئے حمایت پیدا کرئے، اسی حمایت کی وجہ اسرائیل عرب سرزمین پر قابض ہوتا گیا اور غیرقانونی یہودی بستیاں بنانے میں کامیاب ہوا، تل ابیب نے کئی دہائیوں سے عربوں کو دیوار کیساتھ لگارکھا تھا اور دنیا فلسطینیوں کے مصائب سے بے خبر تھی، اسرائیل نے 8 اکتوبر 2023ء کو غزہ پر جارحیت شروع کرتے وقت حماس کو صفحہ ہستی سے ختم کرنے کا نعرہ بلند کیا تھا دو سال گزر چکے ہیں، امریکہ اور عرب حکمرانوں کو بادل نخواستہ ہی صحیح مذاکرات کرنے پڑ رہے ہیں جبکہ رواں ہفتے ہونے والے مذاکرات میں تو بلواسطہ طور پر اسرائیل دوبارہ شامل ہوا ہے، اسرائیل کا بنیادی مقصد حماس کو غیرفعال سیاسی اور عسکری قوت میں تبدیل کرنا تھا جسے حماس نے مزاحمت کے ذریعے ناممکن بھی بنادیا، حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے جواب میں اٹھ نکاتی ایجنڈا منظور کرایا ہے جو حماس کی بڑی کامیابی ہے، جس کے مطابق غزہ میں جنگ کا مکمل خاتمہ ہوگا، جنگ بندی اسرائیلی کابینہ کی منظوری کے بعد ہوگی، قیدیوں کا تبادلہ معاہدے کے باقاعدہ اعلان کے بعد ہوگا، ثالثوں نے جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کا اختیار امریکا کو دیا ہے، اسرائیلی فوج کو غزہ شہر، شمالی علاقوں، رفح اور خان یونس سے انخلا کرنا ہوگا، 5 سرحدی گزرگاہوں سے یومیہ 600 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے، امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن کے بجائے بین الاقوامی ادارے کریں گے، فلسطینی دھڑوں نے غزہ کا انتظام سنبھالنے کیلئے 40 نام پیش کردیئے۔
    حماس کے 8 نکات منظور غزہ پر اسرائیلی جارحیت ختمحماس ایک حقیقت کی طرح غزہ میں موجود ہے جس سے امریکی اور اسرائیلی مذاکرات کررہے ہیں، انشاء اللہ غزہ ہی نہیں آزاد فلسطینی ریاست میں حماس کا سیاسی کردار دوام ملے گا اور جب تک فلسطین اپنی مسلح افواج تشکیل نہیں دیتا حماس کی عسکری طاقت ہی فلسطینوں کی عسکری طاقت بنی رہے گی، اسرائیل 8 اکتوبر 2023ء کی جنگ ہار چکا ہے لیکن اس کیلئے فلسطینیوں نے بڑی قربانیاں دیں ہیں کم و بیش 70 ہزار افراد شہید ہوئے اور دو لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی زخمی ہوئے، مصنوعی قحط نے ہزاروں بچوں کی نارمل زندگی متاثر کی ہے اور وہ وقت قریب ہے جب ملبے کا ڈھیر غزہ فلسطینی مملکت کا خواب پورا کرئے گا، سلام ہو غزہ کے شہیدوں پر، سلام ہو غزہ میں اپنے بچے راہ خدا میں قربان کرنے والوں پر سلام ہو مزاحمت جاری رکھنے والوں پر۔

    front ح ماس کامیاب
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleایس آئی ایف سی کو آئین کیخلاف ادارہ قرار دینے پر ایمل ولی خان نے وزیر اعظم سے معافی مانگ لی!
    Next Article اسرائیل اور پاکستان کی سفارش کے باوجود صدر ٹرمپ نوبل امن پرائز کیوں نہ مل سکا؟ 😎😎
    shoaib87
    • Website

    Related Posts

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025

    پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !

    دسمبر 9, 2025

    Comments are closed.

    مقبول مضامين

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    دسمبر 29, 2025

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025

    پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !

    دسمبر 9, 2025
    پاکستان
    تازہ ترین دسمبر 29, 2025

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    تحریر: محمد رضا سید ایران کے معاشی ماہرین چند سال پہلے تک یہ سوچ بھی…

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025
    ہمیں فالو کریں
    • Facebook
    • YouTube
    • TikTok
    • WhatsApp
    • Twitter
    • Instagram
    Visitor Counter
    1220816
    Most Watched

    امریکی صدر کے 20 نکات ردی دان کی نذر ہوگئے، حماس کے 8 نکات جنگ بندی کی بنیاد ہوں گے

    اکتوبر 9, 202516,423 Views

    پاکستان میں جمہوریت کا زوال 165 ملکوں میں 124ویں نمبر پر آگیا، 10 بدترین ملکوں میں شامل

    فروری 28, 202516,338 Views

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بیدخلی کا منصوبہ پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

    مئی 5, 202516,194 Views
    Editor's Picks

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    دسمبر 29, 2025

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025
    © 2026 میزان نیوز
    • Home

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.