حماس نے مزاحمتی تحریک کو غیر مسلح کرنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے فلسطینی امور میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے زیادہ مضبوط اور واضح ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے، یمن کے سرکاری نیوزچینل المسیرہ کو منگل کے روز انٹرویو دیتے ہوئے حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان نے کہا کہ حماس کبھی بھی اپنے ہتھیار کسی غیر ملکی طاقت کے حوالے نہیں کرے گی، ان کا کہنا تھا، مزاحمتی تحریک حماس ہتھیار چھیننے اور ہمیں غیر مسلح کرنے کے لئے غیر ملکی افواج کی آمد کو مسترد کرتی ہے، وہ ہتھیار جنہیں قابض اسرائیلی فوج ہم سے چھیننے میں ناکام رہی وہ غیرملکی فوج ہم سے کیسے چھین سکتی ہے یہ تو ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہےاور حماس کسی صورت مزاحمت کا راستہ ترک نہیں کرئے گی اور جو اسلامی ملک ایسا کرئے گا وہ بیت المقدس اور فلسطینیوں سے غداری ہوگا۔
اسامہ حمدان نے اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت نے اوّل روز سے جنگ بندی کی پابندی نہیں کی اور ہمیں آئندہ مرحلےکی جنگ بندی کیلئے زیادہ واضح ضمانتوں کی یقین دہانی چاہیئے، انہوں نے کہا غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں ضمانتیں زیادہ واضح اور وعدے زیادہ تفصیلی ہونے چاہئیں، اُنھوں نے اسرائیل کی جانب سے سابقہ معاہدوں کی بار بار خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی، ان کا کہنا تھا کہ صہیونی دشمن معاہدوں کی پابندی نہیں کرتا، حتیٰ کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کو خاطر میں نہیں لاتا ہے جن پر وہ خود دستخط کرتا ہے، اسامہ حمدان نے خبردار کیا کہ غزہ کا مسلسل محاصرہ دوبارہ جارحیت کی علامت ہو سکتی ہے، گزرگاہیں نہ کھولنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے خلاف دوبارہ جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ محاصرے کو بطور ہتھیار استعمال کرنا فلسطینی مزاحمت کو کمزور نہیں کر سکتا بلکہ بنیادی ضروریات کے حوالے سے ناکہ بندی کو جنگی حربے کے طور پر تصور کیا جائیگا اور تنازعہ اپنی جگہ موجود رہیگا جو صہیونی ریاست کے خلاف نفرت اور دشمنی میں اضافہ کرتا ہے۔
خطے میں اسرائیلی اور امریکی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسامہ حمدان نے انہیں مغربی ایشیا پر عسکری بالادستی قائم کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ خطے پر اپنی بالادستی مسلط کرنا چاہتا ہے اور صہیونی ریاست اس بالادستی کی بنیاد ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر مزاحمت کو غیر مسلح کر دیا گیا تو اس سے اسرائیل کو پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا، حماس، اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس تصادم کا انجام اس صہیونی ریاست کے زوال کی صورت میں نکلے گا، واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی طے پائی تھی، معاہدہ کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیل کو غزہ میں تمام گزرگاہیں کھولنے، خوراک اور امداد کی ترسیل کی اجازت دینے اور حماس کے پاس موجود تمام قیدیوں کی رہائی کے بدلے فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بنایا گیا تھا، اگرچہ حماس نے معاہدے پر عمل کیا تاہم اسرائیل نے غزہ پر حملے جاری رکھے اور بیشتر گزرگاہیں بند رکھ کر اہم انسانی امداد کی فراہمی روک دی۔
منگل, جنوری 6, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

