فیلڈ مارشل عاصم منیر کے متعلق ریمارکس دینے پر پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان سے خاندان کے افراد کی ملاقاتیں روک دی گئی ہیں، عدالتی حکم کے مطابق منگل کو اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے اہلخانہ کی ملاقات ہونا تھی مگر اُن کے فیلڈ مارشل کے خلاف بیانات کی وجہ سے صورتحال تبدیل ہوگئی اور آج منگل کے روز سرکاری حکام نے عمران خان سے اُن کی بہنوں کی ملاقات نہیں ہونے دی، گزشتہ ملاقات بھی طویل تعطل کے بعد اس قیاس آرائیاں کے دوران کرائی گئی کہ عمران خان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں، عمران خان بمقابلہ فیلڈ مارشل عاصم منیر لفظوں کی جنگ نے ملک کے اندر کشیدگی میں اضافہ کیا ہے جبکہ عام لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں، راولپنڈی اڈیالہ جیل بانی پی ٹی ائی عمران خان کی بہنوں نے گورکھپور ناکے پر روکے جانے کے خلاف احتجاج شروع کردیا اور دھرنا دے کر بیٹھ گئیں، پولیس نے جیل جانے والے راستے پر رکاوٹیں کھڑی کرکے بھاری نفری تعینات کردی، کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے اور پی ٹی آئی کارکنان نے نعرے بازی شروع کر دی، اس ناکے پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ میں آگئی ہوں تمام تر ناکے توڑ کر آؤ مجھے کر لو گرفتار، یہ غیرقانونی کام کرتے ہیں ہم قانونی کام کریں تو پابندی عائد کردی جاتی ہے، ہمیں تو اڈیالہ جیل میں ڈاکٹر لانے کی اجازت نہیں ہے، واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید رکھا ہوا ہے اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی کے باعث اہل خانہ اور کارکنان کئی بار احتجاج کرچکے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی ابھی تک پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیراعظم سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہیں جبکہ حکومت ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ سابق وزیراعظم کو تمام سہولتیں قانون کے مطابق دی ہیں اور دوسری طرف عمران خان کو اُن کے اہل خانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلاء سے ملاقات میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی کئی کوششیں کیں مگر جیل حکام نے عدالتی حکم کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی، جس میں منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، تاہم گزشتہ ہفتے حکام نے عمران خان کی ایک اور بہن عظمیٰ خان کو ان سے ملاقات کی اجازت دی تھی، جس کے بعد انہوں نے بتایا تھا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں، آج جیل کی طرف جاتے ہوئے جاری کردہ ویڈیو بیان میں علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ ریاست قانون کی خلاف ورزی کررہی ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمران کو گزشتہ 14 ماہ سے اپنے ذاتی معالج سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جسکی مرتکب موجودہ حکومت اور اس کے پشت پناہ ہورہے ہیں، عالمی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنے ملکی مفادات کے پیش نظر اس بابت توجہ دینا چھوڑ دی ہے البتہ امریکی قانون سازوں کی ایک معقول تعداد نے ٹرمپ انتظامیہ سے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر راست اقدامات کرنے کیلئے خط لکھا ہے، جس پر عملدرآمد کیلئے صدر ٹرمپ پابند نہیں ہیں۔
منگل, جنوری 6, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

