ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے کہا کہ جوہری معاہدہ کیلئے جاری مذاکرات کے دوران فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، انہوں نے ایکس پر لکھا کہ بلواسطہ مذاکرات میں فریقین نے اپنی آراء اور مطالبات سے آگاہ کیا اور دونوں وفود اپنے اپنے دارالحکومتوں کی طرف لوٹ گئے، جہاں مزید مشاورت کے بعد اگلے دور کے مذاکرات کا فیصلہ کیا جائے گا، اومان کے دارالحکومت مسقط میں جاری مذاکرات وہاں سے ہی شروع کیے گئے جہاں جون 2025ء سے قبل چھوڑے گئے تھے، واضح رہے کہ ایران کے خلاف گذشتہ سال جون میں اسرائیلی اور امریکی جارحیت سے قبل مذاکرات کے پانچ دور مکمل ہوچکے تھے اور دونوں ملکوں نے مثبت پیشرفت کی نوید بھی سنائی تھی، ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مسقط مذاکرات میں ایران کا بنیادی مطالبہ اقتصادی اور مالی پابندیوں کا مؤثر اور قابل تصدیق خاتمہ ہو، تہران نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ جو ٹھوس اقتصادی فوائد سے عاری ہوگا اس کی عملی اہمیت نہیں ہوگی، جس سے مذاکرات کے وقت اور نتائج ایٹمی میدان میں ایران کی پیشرفت خاص طور پر اہم ہے، ایران اپنے قانونی حق پر اصرار کرتا ہے کہ وہ اپنے وطن میں یورینیم کی افزودگی کرے، اس مسئلے کو مذاکرات میں ایک سرخ لکیر قرار دیتا ہے، تہران کے نقطہ نظر سے کسی بھی ممکنہ تکنیکی اقدامات کو صرف اس فریم ورک کے اندر ہی سمجھا جا سکتا ہے جو ایران کے اس حق کو تسلیم کرتا ہو اور اس سے آگے کی کوئی بھی پیشگی شرط دوسری طرف کی بددیانتی کی علامت سمجھی جائے گی، ایران نے جون کے وسط میں ملک اور اس کے ایٹمی تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے پہلے 2015 کے ایٹمی معاہدے کے متبادل پر پانچ دور کے مذاکرات کیے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ عمان کے دارالحکومت مسقط میں بلواسطہ جوہری مذاکرات کا نیا دور ایک اچھا آغاز ہے اور اسے جاری رکھا جا سکتا ہے، مذاکرات کے جاری رکھنے کے طریقہ کار کا فیصلہ فریقین دارالحکومتوں میں مزید مشاورت کے بعد اعلان کیا جائے گا، انہوں نے عمانی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام کے بعد ایران کے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ مذاکرات کے تسلسل سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک اتفاق رائے موجود ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کا تسلسل دارالحکومتوں میں مشاورت اور آگے بڑھنے کے طریقہ کار پر فیصلے پر منحصر ہے، اعلیٰ ایرانی مذاکرات کار نے کہا کہ بلواسطہ مذاکرات مثبت ماحول میں گھنٹوں کی مشاورت کے بعد شروع ہوئے تقریباً چھ گھنٹوں کے مذاکرات کے دوران بلواسطہ ملاقاتیں اور مشاورت کے دور منعقد ہوئے اور عمانی وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے دونوں طرف کے پیغامات اور نقطہ نظر کی میزبانی اور منتقلی میں فعال کردار ادا کیا،
ان مذاکرات کے دوران ایران کے موقف اور خدشات کو مکمل طور پر بیان کیا گیا، عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایرانی مفادات، عوام کے حقوق اور تمام امور جو بیان کرنے کی ضرورت تھی مثبت ماحول میں پیش کیے گئے اور دوسری طرف کے خیالات بھی سنے گئے، وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہمارے مذاکرات صرف جوہری مسئلے پر مرکوز ہیں اور ہم کسی اور موضوع پر امریکیوں کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے ہیں، ایرانی ٹیم نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری مذاکرات پرسکون ماحول میں تناؤ اور دھمکیوں سے پاک ہونے چاہئیں،
جمعہ, مارچ 27, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

