پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے 27 ویں آئینی ترمیم کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ابھی تک 26 ویں آئینی ترمیم ہضم نہیں کرسکی ہے، لندن میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پارلیمنٹ ابھی چھبیسویں آئینی ترمیم ہضم کررہی ہے، ستائیسویں کی ضرورت نہیں ہے اور ملک اچھا چل رہا ہے اور معیشت میں بہتری آئی ہے، انہوں نے کہا کہ ہندوستان جنگ بندی کی زبانی خلاف ورزیاں کررہا ہے مگر ہم الرٹ ہیں، ہم امن پسند ملک ہیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پیار محبت سے رہنا چاہتے ہیں، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ ہماری طرف سے امن قائم رہے گا اگر ہندوستان نے میلی آنکھ سے دیکھا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، انہوں نے کہا کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوئے ہیں، ایران نے کہا کہ ہم نے اپنے اصلی دوست کو اب پہچانا ہے، اسحاق ڈار نے کہا کہ لینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا عمل قابل تحسین ہے جبکہ پاسپورٹ بنانے کا نظام بھی مربوط کردیا ہے، میرپور ایئرپورٹ کے قیام کیلئے نیا آئیڈیا دیا ہے، نائب وزیر اعظم نے کہا کہ سیالکوٹ ایئرپورٹ کی طرز پر میرپور ائیرپورٹ کا آئیڈیا دیا ہے۔ برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ ہم ایئرپورٹ کیلئے زمین خرید کر دیں گے، جون میں جب یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ حکومت 27ویں ترمیم لانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، ادھر، دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی برطانوی نژاد پاکستانی ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ مفید ملاقاتیں ہوئی ہیں، واضح رہے کہ نائب وزیراعظم ہفتے کو تین روزہ دورے پر برطانیہ پہنچے تھے، اس دوران ان کی برطانوی اور دولتِ مشترکہ کی قیادت کے ساتھ سفارتی ملاقاتیں ہونی تھیں، دفترخارجہ نے پہلے بتایا تھا کہ وہ برطانیہ کی نائب وزیراعظم انجیلا رینر اور پارلیمانی انڈر سیکریٹری برائے پاکستان ہیمرش فالکنر سے بھی ملاقات کریں گے، دفتر خارجہ کے مطابق اسحق ڈار نے برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ محمد یاسین، طاہر علی، عمران حسین، ایوب خان اور عدنان حسین سے ملاقات کی، بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو اجاگر کیا، جنہیں برطانیہ میں متحرک پاکستانی کمیونٹی نے مزید مضبوط کیا ہے۔
ملاقاتوں کے دوران اسحٰق ڈار نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستانی کمیونٹی اسلام آباد اور لندن کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرتی ہے، جس سے باہمی فہم و افہام، ثقافتی تبادلوں اور مضبوط عوامی روابط کو فروغ ملتا ہے، اسحٰق ڈار نے پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ پارلیمانی روابط کو فروغ دینے کے مضبوط عزم پر بھی زور دیا، انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتیں جمہوری تجربات، بین الاقوامی بہترین طرز عمل اور جمہوری اقدار کے تبادلے میں مددگار ہوتی ہیں، جو دونوں ملکوں میں جمہوری اداروں کی ترقی اور استحکام کیلئے نہایت اہم ہیں، دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مسئلے پر توجہ دلانے کی کوششوں پر ارکان پارلیمنٹ کی تعریف کی اور اس معاملے پر برطانیہ میں آگاہی بڑھانے پر انہیں سراہا۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

