اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، پاکستان نے قطر میں حماس رہنماؤں پر حالیہ اسرائیلی حملے کو غیر قانونی، بلا اشتعال اور خطے کے استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا، اسرائیل کے سفیر نے ابتدا میں اپنے خطاب میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی مثال دی تاکہ دوحہ پر حملے کا جواز پیش کر سکیں، انہوں نے کہا کہ جب بن لادن کو پاکستان میں ختم کیا گیا تو سوال یہ نہیں تھا کہ غیر ملکی سرزمین پر دہشت گرد کو کیوں نشانہ بنایا گیا، سوال یہ تھا کہ ایک دہشت گرد کو پناہ کیوں دی گئی؟ یہی سوال آج بھی اٹھتا ہے، بن لادن کیلئے کوئی استثنیٰ نہیں تھا، اور حماس کیلئے بھی نہیں ہے، اس پر پاکستان نے فوری طور پر جواب دینے کا حق استعمال کیا اور اقوام متحدہ میں سفیر عاصم افتخار احمد نے اس موازنہ کو ناقابل قبول اور بیہودہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا مسلسل خلاف ورزی کرنے والا ایک قابض ریاست ہے، جو عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ خود اقوام متحدہ کو بھی دھمکاتا ہے، اور یہ سب کچھ استثنیٰ کے ساتھ کرتا ہے، حملہ آور ہونے کے باوجود یہ خود کو مظلوم ظاہر کرتا ہے مگر آج یہ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے، انہوں نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری بخوبی جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، القاعدہ بڑی حد تک پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے باعث ختم ہوئی اور ہم اس اجتماعی جدوجہد کیلئے پرعزم ہیں، اس کے جواب میں اسرائیلی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک دہرا معیار اپناتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے میری باتوں سے انہیں تکلیف پہنچی ہو اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں لیکن میں ہمیشہ حقائق پر بات کرتا ہوں، حقیقت یہ ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں مارا گیا اور اس پر کسی نے امریکا پر تنقید نہیں کی، جب دوسرے ممالک دہشت گردوں پر حملہ کرتے ہیں تو کوئی ان کی مذمت نہیں کرتا، انہوں نے مزید کہا کہ آپ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے کہ نائن الیون ہوا تھا اور نہ ہی یہ حقیقت بدل سکتی ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں تھا اور وہیں مارا گیا، جب آپ ہم پر تنقید کرتے ہیں تو ذرا یہ سوچیں کہ آپ اپنے ملک کیلئے کون سے معیار اپناتے ہیں اور اسرائیل کیلئے کیا موقف ہوتا ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کا آغاز میں قطر پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور ڈھٹائی پر مبنی اور غیر قانونی کارروائی قرار دیا، انہوں نے کہا کہ یہ غیر قانونی اور ڈھٹائی پر مبنی حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ اسرائیل کی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے ایک بڑے اور مستقل سلسلے کا حصہ ہے جو خطے کے امن و استحکام کو کمزور کرتا ہے، عاصم افتخار نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملوں نے ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا، جس سے شہریوں کی زندگیاں جان بوجھ کر خطرے میں ڈالی گئیں لہٰذا یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے، انہوں نے اس حملے کو سفارت کاری کے لیے براہِ راست چیلنج قرار دیا کیونکہ یہ اس وقت کیا گیا جب غزہ کے حوالے سے حساس مذاکرات ممکنہ کامیابی کی طرف بڑھ رہے تھے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

