تحریر: محمد رضا سید
لیبیا کے سابق مطلق العنان قائد اور عرب قوم پرست رہنما معمر قذافی کے بیٹے اور سمجھے جانے والے سیاسی جانشین، 53 سالہ سیف الاسلام قذافی، طرابلس سے دور ایک پہاڑی قصبے میں ایک دہائی تک گمنامی کی زندگی گزارنے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیے گئے، یہ واقعہ بعض مبصرین کو اُس انجام کی یاد دلاتا ہے جو روپوشی کے دوران خود معمر قذافی کے ساتھ پیش آیا تھا۔
سیف الاسلام حالیہ برسوں میں صدارتی امیدوار کے طور پر دوبارہ منظرِ عام پر آئے تھے مگر ناقدین کے مطابق نیٹو ممالک نے انتخابی عمل کو سبوتاژ کیا، منگل کے روز سیف الاسلام کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہونے والے چار نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے، لیبیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق تفتیش کاروں اور طبی ماہرین نے لاش کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ موت گولیوں کے زخموں سے واقع ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
اگرچہ سیف الاسلام نے لیبیا کے اُس دور میں جب اُن کے والد اقتدار میں تھےکوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالاتاہم انہیں معمر قذافی کے بعد ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا،معمر قذافی نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک لیبیا پر حکمرانی کی ہے، سیف الاسلام نے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی اور لیبیا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا،انہوں نے خود کو ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر پیش کیا، آئین سازی اور انسانی حقوق کے احترام کی بات کی، لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے سیف الاسلام کو ایک وقت میں کئی مغربی حلقوں میں لیبیا کا قابلِ قبول چہرہ سمجھا جاتا تھاتاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بالآخر وہ بھی مغربی پالیسیوں کے لیے قابلِ قبول ثابت نہ ہو سکے۔
2011ءمیں جب معمر قذافی کی طویل حکمرانی کے خلاف بغاوت کو نیٹو ملکوں نے ہوا دی تو سیف الاسلام نے باغیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں 2022ء کے بعد ہوا اور ابتک جاری ہے، یہی حال بحرین اور سعودی عرب میں دیکھا جاتا رہا ہے، جہاں سیاسی مخالفین کو بدترین تشدد اور فوجی حملوں کا نشانہ بنایا گیا مگر وہاں مغربی ملکوں کو انسانی حقوق یاد آئے اور نہ جمہوریت کا راگ چھیڑا گیا، مغربی حکومتیں انسانی حقوق اور جمہوریت کو اپنے مادی مفادات کیلئے جہاں چاہتیں ہیں استعمال کرتی ہیںانہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارا جینا مرنا لیبیا میں ہے، بیرونی قوتیں ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں بعد ازاں وہ گرفتار ہوئے، روپوش رہےاور پھر طرابلس کی ایک عدالت نے انہیں جنگی جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی، اسی دوران وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو بھی مطلوب تھے۔
سیف الاسلام قذافی کو 2017 میں عام معافی کے قانون کے تحت رہائی ملی، رہائی کے بعد وہ آہستہ آہستہ دوبارہ سیاسی منظرنامے پر متحرک ہوئے، لیبیائی تجزیہ کاروں کے مطابق وہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے وفود سے ملاقاتیں کرتے اور سیاسی مستقبل پر گفتگو کرتے تھے، 2021ء میں وہ روایتی لیبیائی لباس میں جنوبی شہر سبھا میں صدارتی انتخابات کے لیے نامزدگی جمع کرانے منظر عام پر آئے، ان کی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ 2011 سے پہلے کے استحکام کی یاد کو سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کرنا تھا تاہم ان کی امیدواری شدید متنازع بنادی گئی قذافی دور کے متاثرین اور کئی مسلح گروہوں سے مخالفت کرائی گئی اور دباؤ اس قدر بڑھا کہ 2015 کی عدالتی سزا کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دیا گیااور جب انہوں نے اپیل کرنے کی کوشش کی تو نیٹو حمایت یافتہ مسلح افراد نے عدالتوں کو بند کرادیا، نیٹو ممالک نہیں چاہتے کہ لیبیا میں سیاسی استحکام پیدا ہو انہیں حفتر جیسے نجی ملیشیا رکھنے والوں سے کام ہے وہ تیل کے ذخائر پر قابض ہے اور اس دولت سے پورا مغرب فیضیاب ہورہا ہے۔
لیبیا طویل عرصے سے سیاسی انتشار، مسلح دھڑوں کی کشمکش اور بیرونی مداخلت کا شکار ہے بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملک میں پائیدار استحکام بیرونی طاقتوں کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے جبکہ دیگر مبصرین اس بحران کو اندرونی تقسیم اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ سیف الاسلام قذافی کی موت لیبیا کی سیاست پر کیا اثر ڈالے گی؟ کیا اس سے صدارتی انتخاب کی ایک بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے، یا یہ واقعہ مزید عدم استحکام کو جنم دے گا؟ اس کا جواب آنے والے مہینوں میں لیبیا کی اندرونی سیاسی پیش رفت اور بین الاقوامی سفارتی رویّوں سے جڑا ہوگا۔
منگل, فروری 10, 2026
رجحان ساز
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
- جیفری ایپسین فائلز واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کردیا
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !

