تحریر: محمد رضا سید
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران، امریکہ کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا جب تک وہ اسرائیل کی حمایت ترک نہیں کرتا، اُنہوں نے مزید شرائط پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ سے اپنی افواج واپس بلانا ہوں گی اور علاقائی امور میں مداخلت ختم کرنا ہوگی، امریکہ اور ایران ایک غیر مستحکم مشرقِ وسطیٰ کے دو اہم کھلاڑی ہیں اور ان کے درمیان کشیدگی تیل کی منڈیوں، علاقائی سلامتی اور طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے، اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جون میں ایرانی اہداف اور اہم جوہری تنصیبات پر حملوں نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا جبکہ سفارت کاری پس منظر میں جاچکی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ شدت اختیار کر رہی ہے، یہ صورتِ حال اسرائیل، امریکی افواج اور علاقائی اتحادیوں کے درمیان ایک وسیع تر تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔
سپریم لیڈر کی امریکہ کو للکار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں نہ آئیں تو کشیدگی کے کم ہونے کا امکان نہیں ایران، جو داخلی مشکلات اور مغربی پابندیوں کی زد میں ہے، امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں کا کانٹا بنا ہوا ہے تاہم اب اس خطے میں امریکہ اور اُس کے اتحادی اسرائیل کی وہ بالادستی قائم نہیں رہی جو پچاس کی دہائی سے دو ہزار کی دہائی تک موجود تھی، چین اور روس مشرقِ وسطیٰ میں اپنے قدم جما چکے ہیں جبکہ عرب قیادت تیل سے حاصل شدہ دولت مغربی ممالک پر لٹا کر افسوس کر رہی ہے کہ وہ اپنے عروج کے زمانے میں پائیدار ترقی نہ کر سکے، عرب ممالک کی سکیورٹی آج بھی اسی امریکہ کے ہاتھ میں ہے جس نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کے سِر پر بٹھا رکھا ہے، ایران نے گزشتہ چالیس برسوں میں پابندیوں اور امریکی صدور کے معاندانہ رویوں کے باوجود ترقی کی ہے، اُس کے تیار کردہ ڈرون روس استعمال کر رہا ہے جبکہ چین نے ایران سے شاہد 123 ڈرون کی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔
ایران نے جون کے حملوں کے بعد اپنی ایٹمی تنصیبات کو تقریباً پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں دوبارہ فعال کر لیا ہے اور تہران یورینیم افزودگی کے عمل سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں، جنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی تیز کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی عوام سخت معاشی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، غربت بڑھ رہی ہے اور ایک مختصر تعداد نانِ شبینہ کے حصول کیلئے ہاتھ پھیلائے بڑے شہروں میں نظر آنے لگے ہیں، میں نے وہ وقت بھی دیکھا تھا جب ایران میں صدقہ لینے والے کو ڈھونڈنا مشکل ہوتا تھا، تہران حکومت اقتصادی مشکلات کے باعث اسلامی نظریات کے مطابق نظام چلانے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے غربت اور افلاس کے باعث نظامِ حکومت کی قوتِ نافذہ اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ اسلامی تعلیمات کا مذاق اُڑانا فیشن بنتا جا رہا ہے، مساجد خالی دکھائی دیتی ہیں اور اذان کے وقت پارکوں میں مخلوط محفلیں منعقد ہوتی ہیں، ایسے حالات کے باوجود ایرانی سپریم لیڈر کا ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے رہنے پر یقین متزلزل نہیں ہواالبتہ ایرانی حکام اور وزراء سے قربت رکھنے والے طبقے کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہےلیکن پیر جمران کے نظریات سے وابستہ لوگ اب بھی اسلامی انقلاب کے اہداف و مقاصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ایران میں 4 نومبر کو امریکی سفارت خانے پر ایرانی طلبہ کے قبضے کے دن کو یومِ استکبار اور طلبہ کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس موقع پر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں ہزاروں طلبہ اور شہداء کے خاندانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ ایک تاریخی اور شناختی واقعہ ہے، آیت اللہ خامنہ ای نے اس خیال کو مسترد کیا کہ امریکہ مردہ باد جیسے نعرے مغرب کی دشمنی کا سبب ہیں، اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کی ایران سے دشمنی کی بنیاد مفادات کا ٹکراؤ ہے، نہ کہ نعرے، اُن کے بقول 1979 کا سفارت خانے پر قبضہ عوامی غصے کی علامتی عکاسی تھا جس نے انقلاب کے خلاف امریکی سازشوں کو بے نقاب کیا، طلبہ نے ایسے دستاویزات دریافت کیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سفارت خانہ انقلاب مخالف سرگرمیوں کا مرکز تھا، اُنہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی فطرت بنیادی طور پر آزادی کے خلاف ہےاور ہر امریکی صدور نے ایران سے سرنڈر کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جبکہ موجودہ صدر نے یہ بات کھل کر کہہ کر امریکہ کا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا۔
اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی پالیسی کو مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کیلئے مرکزی نکتہ قرار دیا، اُنہوں نے کہاآپ کے پاس بنیادی طور پر ایک جوہری ایران تھا اور میں نے ان پر زبردست حملہ کیا، ٹرمپ کا دعویٰ کہ ایران کے پاس اب کوئی جوہری صلاحیت نہیں، ٹرمپ کا یہ دعویٰ دراصل امریکہ کے ایک مخصوص گروہ اور چند عرب بادشاہتوں کو مطمئن کرنے کی کوشش ہے مگر حقائق اس کے برعکس ہیں، سٹلائٹ تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چند تنصیبات پر کام عارضی طور پر معطل ہوامگر وہاں مرمت اور تعمیرِ نو کی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔
ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ اُن کا ملک روس کے تعاون سے آٹھ نئے جوہری پاور پلانٹس تعمیر کرنے جا رہا ہے، اُنہوں نے بتایا کہ ایران اور روس کے درمیان ان منصوبوں کی مشترکہ تعمیر کیلئے نیا معاہدہ طے پا چکا ہے جبکہایران کے شمالی صوبہ گلستان میں جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے، جو ایک محفوظ ترین مقام ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،واشنگٹن، مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی خاطر عمان کے ذریعے تہران کو پیغامات بھیج رہا ہے تاہم ایران واضح کر چکا ہے کہ مذاکرات برابری کی سطح اور باہمی مفادات کی بنیاد پر ہی ہوں گےاور کسی بھی معاہدے کیلئے سپریم لیڈر کی پیش کردہ شرائط بنیادی محور ہوں گی، تہران کا امریکی پالیسی میں ساختی تبدیلیوں پر اصرار اگرچہ ایک بلند معیار ہے لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق بات چیت ہی رعایت اور ممکنہ حل کا واحد راستہ کھول سکتی ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

