پاکستان گیس کی سپلائی میں خرابی کے دوران اضافی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے خریدے ہوئے کارگو کو فروخت کرنے کے طریقے تلاش کررہا ہے، ایک پریزنٹیشن سے واقف سرکاری اہلکار کے مطابق اگر شہباز شریف کی حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پاکستانی پروڈیوسرز کو سالانہ 378 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، ایک دوسرے سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ملک کے پاس کم از کم تین ایل این جی کارگو ہیں جو اس نے سب سے بڑے سپلائر قطر سے درآمد کیے ہیں اور اس کا فوری استعمال نہیں ہے، گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار جوکہ ملک میں ایل این جی کے استعمال کا بڑا حصہ ہے، اس سیکٹر میں ایل این جی کا استعمال مسلسل تین سالوں کے دوران کم ہوا ہے کیونکہ پاکستان میں گیس سے بجلی کی پیداواری قیمت شمسی توانائی کی قیمت بہت کم ہے اور جس کے استعمال میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے، توانائی کے تھنک ٹینک ایمبر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے، قطر سے ایل این جی درآمد کرنے کی وجہ سے ایندھن کے گھریلو پروڈیوسروں کو پیداوار روکنے پر مجبور کیا ہے، پاکستان اس وقت ایل این جی کارگوز کو آف شور اسٹوریج اور آگے کی فروخت کیلئے کرائے کے ٹینکروں میں منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، سرکاری تیل اور گیس کے پروڈیوسر او جی ڈی سی ایل نے حکومت کو ایک پریزنٹیشن میں بتایا ہے کہ گیس نیٹ ورک میں اضافی ایل این جی کے نتیجے میں گزشتہ 18 مہینوں کے دوران مقامی ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیوں کیلئے اہم پیداواری سرگرمیوں پر اثر پڑا ہے، او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ اس نے پاکستان کی اندرونی سپلائی میں کمی پر مجبور کیا ہے، 29 مئی کو دی گئی پریزنٹیشن کے مطابق گھریلو صنعت کو اگلے 12 مہینوں کے دوران 378 ملین ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہے کہ آیا قطر انرجی کے ساتھ پاکستان کے طویل مدتی ایل این جی درآمدی معاہدے کارگوز کی دوبارہ فروخت کی اجازت دیتے ہیں، ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ حکومت اب بھی ایسا کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے، قطر میں عام طور پر خریداروں کے ساتھ طویل مدتی سپلائی کے معاہدوں میں ایک شق میں یہ شرط موجود ہوتی ہے کہ کارگو کہاں فروخت کیے جا سکتے ہیں، قطر انرجی نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، پاکستان پہلے ہی قطر سے پانچ کنٹریکٹ شدہ ایل این جی کارگوز کو مالی جرمانے کے بغیر موخر کر چکا ہے، جس کی ترسیل کو 2025 سے 2026 تک منتقل کردی گئی تھی کیونکہ ملک توانائی کی اضافی صلاحیت سے حاصل کرچکا ہے، پاکستان کے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پریزنٹیشن پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا لیکن کہا کہ قطر کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں کم از کم ایک سال لگ سکتا ہے اور اسے شروع کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے، جبکہ قطر کے ساتھ موجودہ معاہدہ پاکستان کو کارگو کو مسترد کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے، ایسا کرنے سے جرمانے اور دیگر پیچیدگیاں ہوتی ہیں، ملک نے خبر ایجنسی رائٹرز کو بتایا
کہ گیس سے چلنے والے کئی پاور پلانٹس جو پہلے لازمی کنٹریکٹس کے تحت کام کر رہے تھے، اب ان کو نظرانداز کر دیا گیا ہے، اوجی ڈی سی ایل نے پریزنٹیشن میں کہا کہ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ گرمیوں کا موسم غیر معمولی مانگ پیدا کرے گا لیکن رجحان اس کے برعکس اشارہ کرتا ہے
منگل, جنوری 20, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

