پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ افغانستان کی طالبان حکومت کی وزارت قومی دفاع نے کہا ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی جائز اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، ذبیح اللہ مجاہد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ رات انھوں نے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں ہمارے بے گناہ شہریوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے، ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی جرنیل ایسے ہی مجرمانہ اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سکیورٹی کی ناکامیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کررہے ہیں، قبل ازیں پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک حملہ اور سنیچر کے روز بنوں میں ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں، واضح رہے کہ سنیچر کے روز بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی جاں بحق ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا، وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان میں کارروائی سے متعلق مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، ان کے ساتھی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستانی فوج نے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بہسود کے علاقے کردی کس میں شہاب الدین نامی شخص کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بیس کے قریب افراد جاں بحق ہوئے، متاثرہ خاندان کا ایک فرد کا کہنا ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا، میرے بچے چلے گئے، میرا بھائی چلا گیا اور میری کنواری بیٹیاں ماری گئیں، عینی شاہدین نے بتایا کہ رات دیر گئے ایک فضائی حملے میں مکان کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ ننگرہار پولیس کے ترجمان سید طیب حماد نے طلوع نیوز کو بتایا پاکستانی فوج نے صوبے کے ضلع بہسود میں ایک شہری کے گھر کو نشانہ بنایا، جس میں ایک ہی خاندان کے 23 افراد ہلاک ہو گئے، جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں، بہسود کے علاوہ صوبہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل اضلاع سے بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔
افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ سنیچر کی شب مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ضلع برمل میں فضائی حملے میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جس سے مدرسے کی عمارت کے کچھ حصوں اور کُتب کو نقصان پہنچا، ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان کے باعث مدرسہ بند ہونے کی وجہ سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اتوار, فروری 22, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

