پاکستان نے قرضہ لینے کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، ملک پر قرضے اور واجبات 94 ہزار 197 ارب روپے کی بُلند ترین سطح پر پہنچ گئے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2025 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کا ڈیٹا جاری کر دیا، قرضے اور واجبات جی ڈی پی کے 82.1 فیصد کے برابر ہوگئے، گزشتہ مالی سال 25-2024 کے دوران قرضوں اور واجبات میں 8 ہزار 740 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق جون 2025 تک پاکستان پر قرضے اور واجبات 94 ہزار 197 ارب روپے ہوگئے، جون 2025ء تک ملک پر مقامی قرضہ 54 ہزار 471 ارب روپے جبکہ غیر ملکی قرضہ اور واجبات 34 ہزار 906 ارب روپے رہے جوکہ امریکی ڈالر میں تقریباً 124.05 بنتا ہے، جبکہ اسی دوران غیر ملکی واجبات 4 ہزار 459 ارب روپے کی سطح پر رہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2025 تک پاکستان پر قرضے اور واجبات جی ڈی پی کے 82 اعشاریہ ایک فیصد ہوگئے، مرکزی بینک کی دستاویز کے مطابق جون 2024 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کا حجم 85 ہزار 457 ارب روپے تھا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا کل بیرونی قرض اور واجبات (عوامی + نجی) حالیہ سالوں میں تقریباً 125–130 ارب ڈالر کے درمیان رہا ہے جبکہ 2022ء کے آخر تک یہ تقریباً 126.3 ارب ڈالر پر پہنچ گیا تھا، پاکستان کا بیرونی قرض (عوامی + نجی) 2022 میں تقریباً 126 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 کے وسط تک تقریباً 130 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، اور 2025 میں بھی یہ تقریباً 130 ارب ڈالر کے گرد رہا، اضافے کے اہم عوامل میں نئے قرضوں کی آمد جس میں آئی ایم ایف اور کثیر الجہتی پروگرام کی فنڈنگ، رعایتی قرضے اور چین، خلیجی ممالک کی جمع شدہ رقوم شامل ہیں جبکہ ادائیگیاں اور کرنسی کی اتار چڑھاؤ نے بعض اوقات ترقی کو متاثر کیا۔
دوسری طرف پاکستان کا زرعی شعبہ اقتصادی اور سماجی حوالے سے ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کے تباہ کن اثرات آئندہ سالوں تک محیط ہونگے، پاکستان کا زرعی شعبہ ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 18.9 فیصد ہے اور 38 فیصد سے زائد مزدور طبقے کو روزگارفراہم کرتا ہے، سیلاب نے اس اہم شعبے کو کئی طریقوں سے تباہ کیا ہے، گندم، چاول، گنا اور کپاس جیسی اہم نقد آور اور غذائی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں، اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی ختم ہوئی ہے بلکہ خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑے گا، دیہی خاندانوں کیلئے مویشی بنیادی سرمایہ اور غذائی ذریعہ ہیں، اطلاعات کے مطابق لاکھوں جانور سیلاب میں ہلاک ہو گئے ہیں، جس سے روزگار اور دودھ و گوشت جیسی غذائی ضروریات دونوں شدید متاثر ہوئی ہیں، زرعی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی بھرپائی آسان نہیں ، سیلاب زرخیز مٹی بہا لے گیا ہے بعض علاقوں میں زمین پر ریت اور گاد کی تہہ بیٹھ گئی ہے، جس سے وہ کئی برسوں تک قابلِ کاشت نہیں رہے گی، یہ طویل المدتی نقصان زرعی پیداوار کو کئی برسوں کیلئے خطرے میں ڈال رہا ہے، سیلاب کی آفت ایک ایسے وقت پر آئی ہے جب پاکستان پہلے ہی خوراک کی کمی کا شکار تھا، اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے مطابق سیلاب سے قبل بھی ملک میں تقریباً 40 لاکھ ٹن خوراک کی کمی تھی موجودہ تباہی نے صورتحال کو ایک سنگین غذائی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔
پیر, جنوری 19, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

