ہندوستان کے وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے اقوام متحدہ میں پاکستان کا نام لئے بغیر تنقید اور ہندوستانی مندوب کی جانب سے پاکستان کو ٹیررستان کہنے پر پاکستان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، ہندوستان کے وزیر خارجہ جے شنکر نے سنیچر کو اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ ہمارا ایک پڑوسی طویل عرصے سے دہشت گردی کا مرکز رہا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ پچھلی کئی دہائیوں سے بڑے بین الاقوامی دہشت گرد حملوں کے تانے بانے اس ملک سے ملتے آئے ہیں، اپریل میں پہلگام میں معصوم سیاحوں کا قتل اس کی تازہ مثال ہے، ہندوستانی وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن میں انڈر سیکریٹری محمد راشد نے جے شنکر کے بیان کو پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا، اُن کا کہنا تھا کہ درحقیقت ہندوستان دہشت گردوں کا سہولت کار ہے اور جنوبی ایشیا کو اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور بنیاد پرستی پر مبنی نظریئے کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا ہے، محمد راشد کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا جسے عالمی برادری بھی تسلیم کرتی ہے، پاکستانی مندوب کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انڈین مشن میں سیکنڈ سیکریٹری سری نواس نے کہا کہ ہندوستانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کسی ملک کا نام نہیں لیا تھا لیکن پاکستان نے پھر بھی اس پر ردعمل دیا اور تسلیم کرلیا کہ سرحد پار دہشت گردی کا مرکز ہے، اُن کا کہنا تھا کہ کوئی دلیل یا جھوٹ کبھی بھی ٹیررستان کے جرائم کو نہیں چھپا سکے گے، ہندوستانی مندوب کے بیان پر ایک بار پھر جواب دینے کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب محمد راشد نے کہا کہ یہ اتنا شرمناک ہے کہ ہندوستان اس حد تک گر چکا ہے کہ وہ بار بار اقوام متحدہ کے ایک رُکن ملک کا نام بگاڑ رہا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ ایک خودمختار قومی ریاست کے نام کا مذاق اڑانا پوری قوم کو بدنام کرنے اور ان کی توہین کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
محمد راشد کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں ہے ہندوستان کے پاس دنیا کو دکھانے کیلئے کچھ نہیں ہے، اسی لئے بغیر کسی ٹھوس دلیل کے ایسی باتیں کی جارہی ہیں جو سنجیدہ بحث کے لائق نہیں ہیں، یاد رہے پاکستان نے پہلگام واقعے کی عالمی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے مگر ہندوستان کی برسراقتدار مودی حکومت نے اس پاکستانی مطالبہ منظور کرنے کے بجائے معاملے کو دبانے کی کوشش کی اور الزامات لگاکر پاکستان پر جارحانہ حملہ کردیا جس سے پاکستان کے بعض شہری علاقوں میں مذہبی مقامات اور شہریوں کو نشانہ بیایا جس کے بعد پاکستان نے مجبوراً جواب دیتے ہوئے ہندوستان کے متعدد جنگی طیارے جن میں فرانس ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے مار گرائے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر مودی نے جنگ بندی قبول کرلی۔
پیر, جنوری 19, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

