پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ آرمی چیف کی طرف سے کسی صحافی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا گیا، سہیل وڑائچ کے جس کالم کی بات ہے وہ برسلز کا ایک ایونٹ تھا، برسلز کے ایونٹ میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے معافی کا کوئی ذکر نہیں ہوا، ڈی جی تعلقات عامہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ صحافی سہیل وڑائچ کے جس کالم کی بات ہو رہی ہے وہ برسلز کا ایونٹ تھا اور وہاں سینکڑوں لوگوں نے تصویر بنوائی، آرمی چیف کی طرف سے کوئی انٹرویو نہیں دیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ برسلز کے ایونٹ میں پی ٹی آئی کا کوئی ذکر ہوا نہ ہی معافی کا مطالبہ کیا گیا، یہ ایک صحافی کی ذاتی مفاد اور تشہیر حاصل کرنے کی اپنی کوشش ہے، 9 مئی کے ذمہ داران، سہولت کاروں کو قانون کے مطابق کٹہرے میں آ نا ہوگا، افسوس کی بات ہے کہ سینئر صحافی ہو کر بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا، ڈی جی تعلقات عامہ نے کہا کہ ہندوستان کا خیال تھا دہشت گردانہ پراکسیز اور دیگر سہولت کاروں کی مدد کے بعد پاکستان پر حملہ کرے گا، ہندوستان کا خیال تھا پاکستانی فوج کو آسانی سے ڈس کریڈٹ کردیں گے مگر سب الٹ ہو گیا، پاکستان اور پاکستانی فوج کا بھرپور جواب ملا تو انکی اپنی پراکسیز اور وہ خود ڈس کریڈٹ ہوگئے، ڈی جی تعلقات عامہ نے کہا کہ کسی نے کہا ہندوستان اربوں ڈالر کی عسکری مشین رکھتا ہے باآسانی پاکستان کو شکست دے دے گا، کسی نے کہا کہ ہندوستان کو حملہ کرنا چاہیے، ان کا خیال تھا کہ ایک طرف سے ہندوستان، دوسری جانب سے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان بیک وقت حملہ کریں لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے دونوں محاذوں پر دشمن کا مقابلہ کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے الیگل اسپیکٹرم کو ختم کرنے کا جو فیصلہ تمام سیاسی پارٹیوں نے 2014 میں کیا تھا آج تک اُس پر مکمل عمل نہیں ہو سکا، جرائم میں ملوث غیر قانونی مقیم افغانوں کو نکالنے کی بات کی جائے تو ہمارے ہی ملک کے چند سیاسی و کریمنل کرداروں کو مسئلہ شروع ہو جاتا ہے۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر مکمل عمل بہت ضروری ہے، گورننس کے خلا کو فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے پورا کر رہے ہیں، پاکستانی نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، واضح رہے کہ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے برسلز میں ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سچے دل سے معافی مانگنے سے سیاسی مصالحت ممکن ہے، معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا، سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف نے کہا کہ تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں، یہ افواہیں پھیلانے والے حکومت اور مقتدرہ دونوں کے مخالف ہیں، دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرمی چیف نے کہا کہ اللہ نے انہیں اس ملک کا محافظ بنایا ہے، اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے، سہیل وڑائچ کے مطابق ایک سوال پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا تھا کہ سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے، سینئر صحافی کے مطابق آرمی چیف نے سیاسی مصالحت پر گفتگو کے دوران تخلیق آدم سے متعلق قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تخلیق آدم کے بعد ابلیس کے سوا سب نے آدم کو خدا کا حکم سمجھ کر قبول کیا، معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا، سہیل وڑائچ کے متذکرہ انٹرویو کو پاکستان کے اندر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پیر, جنوری 19, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

