شام کی عبوری انتظامیہ کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اپنے دورہ ماسکو کے دوران ملک میں رونما ہونے والے حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کے بعد ملک میں اتحاد کی بحالی کیلئے روس سے مدد چاہی ہے، یاد رہے شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد بحران زدہ ملک شام میں سیاسی و فرقہ وارانہ ہم آھنگی کی صورتحال غیر مستحکم ہے، سابق دہشت گرد مسلح گروہ ہیئت تحریر الشام نے طویل عرصے سے برسرِ اقتدار صدر بشار الاسد کو امریکہ اور ترکیہ کی مدد سے اقتدار سے ہٹا دیا جو ماسکو کے قریبی اتحادی تھے ایچ ٹی ایس کے سربراہ احمد الشرع کو ملک کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا، جس کے بعد روس نے مستعفی صدر بشار الاسد اور ان کے اہل خانہ کو سیاسی پناہ دے دی تاہم روس نے شام کی نئی حکومت کیساتھ کام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جمعرات کو ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران الشیبانی نے تسلیم کیا کہ شام کو چیلنجز اور خطرات کا سامنا ہے مگر انہوں نے ملک کو متحد اور مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ روسی اور شامی عوام کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں شیبانی نے کہا ہم نئے شام کی نمائندگی کررہے ہیں، ہم اس وقت شام کے عوام کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ روس ہمارا ساتھ کھڑا ہو، انہوں نے مزید کہا کہ دمشق روس کے ساتھ مناسب تعامل اور تعلقات کے قیام میں دلچسپی رکھتا ہے، جو تعاون اور باہمی احترام پر مبنی ہوں، لاوروف نے کہا کہ ماسکو شام کے عبوری مرحلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ دمشق کو ملک میں استحکام لانے میں مدد دے گا، انہوں نے کہا ہم خلوصِ دل سے چاہتے ہیں کہ شامی عوام جن کے ساتھ ہماری دیرینہ دوستی ہے ان چیلنجز پر قابو پائیں اور صورت حال کو مکمل طور پر معمول پر لائیں، لاوروف نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ صدر احمد الشرع آئندہ اکتوبر میں ہونے والے روس-عرب لیگ سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، شام اب بھی شدید فرقہ وارانہ تناؤ اور مسلح گروہوں میں تقسیم ہے، اطلاعات کے مطابق بشار الاسد کی برطرفی کے بعد مذہبی شدت پسند دھڑے اقلیتی برادریوں، بشمول علویوں، عیسائیوں اور دروز پر حملے کررہے ہیں، اسی مہینے صوبہ سویدا میں دروز فرقے پر منظم حملے کئے گئے جسکا اسرائیل نے فائدہ اُٹھایا اور شام کی وزرات دفاع کے ہیڈکوارٹر پر بمباری کرکے تباہ کردیا، اس قبل دروز اقلیت کی حفاظت کے بہانے اسرائیل نے جولان کے بفرزون پر قبضہ کرلیا تھا، اس صورتحال کو اسرائیل نے مزید پیچیدہ بنادیا ہے، جو خود کو دروز اقلیت کا ہمدرد ظاہر کرکے شام کے داخلی اُمور میں مداخلت کررہا ہے بشار الاسد کی برطرفی کے بعد اسرائیل نے مقبوضہ جولان کی سرحد کے قریب بفر زون پر قبضہ کرچکا ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ دشمن عناصر کو سرحد سے دور رکھنا چاہتا ہے، ماسکو نے اسرائیلی اقدامات کو شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے علاقائی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ شام کی علاقائی سالمیت کی حمایت کریں۔
لاوروف نے کہا کہ روس عرب جمہوریہ شام کی وحدت، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کی حمایت اور مجدد توثیق کرتا ہے اور روس شام کی تعمیر نو میں ہر ممکن مدد دینے کیلئے تیار ہیں، روس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ شام تمام اُمور پر مکالمہ جاری رکھے گا، اُنھوں نے شام کے سابق صدر بشار الاسد کا نام لئے الشیبانی نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے بعد از الاسد عبوری عمل میں شام کی حمایت کرے اور کہا کہ دمشق نے روس کے ساتھ موجودہ معاہدوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، روس کے پاس شام کے ساحلی علاقے میں طرطوس میں ایک بحری اور حمیمیم میں ایک فضائی اڈا موجود ہے، جو سابق سوویت یونین سے باہر ماسکو کے واحد باضابطہ فوجی اڈے ہیں، یہ واضح نہیں ہے کہ آیا نئی شامی حکومت روس کو ان اڈوں کو برقرار رکھنے کی اجازت دے گی یا نہیں، لاوروف نے کہا کہ ہم شامی عوام کو تعمیر نو میں ہر ممکن مدد دینے کے لئے تیار ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے احمد الشرع کو 15 اکتوبر کو منعقد ہونے والے روس عرب لیگ سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کی تاکید کی ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

