تحریر: محمد رضا سید
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر اہم مذاکرات کا دوسرا دور سوئٹزرلرینڈ کے شہر جنیوا میں ختم ہو گیا ہے، یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب خطہ جنگ اور سفارت کاری کے نازک موڑ پر کھڑا ہے، اور دنیا کی نظریں تہران اور واشنگٹن پر جمی ہوئی ہیں، ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، اور ابتدائی طور پر بعض اصولوں پر پیش رفت کی اطلاعات ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے کا امکان فوری طور پر نظر نہیں آرہا۔
ایران کا مؤقف واضح ہے تہران خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرئیگا اور نہ دباؤ میں کوئی غیرمنطقی شرط قبول ہوگی، ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی، جن کے مطابق جنیوا مذاکرات میں بعض بنیادی اصولوں پر مشترکہ اتفاق پیدا ہواہے، انہوں نے کہا کہ 2018 میں امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکلنا عالمی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی تھی، جس نے نہ صرف سفارتی نظام کو نقصان پہنچایا بلکہ ایرانی عوام پر معاشی دباؤ بھی بڑھایا، واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور اقتدار میں اسرائیلی دباؤ پر ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو یکطرفہ طور پرمنسوخ کردیا تھا اور ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اختیار کی، جس کا نتیجے میں ایران میں انسانی زندگی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ ایران کو انسانی زندگی بچانے والی ادویات تک رسائی کو غیرممکن بنایا گیا، ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کا خواہاں نہیں لیکن پُرامن جوہری توانائی کا حق ناقابلِ مذاکرات ہے، تہران یونیورسٹی کے ماہر فواد ایزدی کے مطابق امریکہ ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا چاہتا ہے، جس سے ایران کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور بیرونی معائنوں کے نام پر فوجی خودمختاری بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
دوسری طرف منگل 17 فروری کو ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر امریکہ پہلے سے طے شدہ شرائط مسلط کرے گا تو یہ مذاکرات نہیں بلکہ ڈکٹیشن ہوگی، اُنھوں نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کا غرور ہمیشہ فیصلہ کن نہیں ہوتاحقیقی مذاکرات طاقت کے زور پر نہیں برابری کی بنیاد پر ہوتے ہیں، انقلاب اسلامی ایران کے قائد آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ مذاکرات کا طریقہ کار شفاف اور متوازن ہونا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ شرائط یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا،تہران میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اپنی فوج کو دنیا کی سب سے طاقتور فوج قرار دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات سب سے طاقتور فوج کو بھی ایسا دھچکا لگ سکتا ہے کہ وہ دوبارہ کھڑی نہ ہو سکے، انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے ایران کی طرف طیارہ بردار بحری جہاز بھیجے ہیں بلاشبہ طیارہ بردار جہاز ایک خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتا ہےمگر اس سے زیادہ خطرناک وہ طاقت ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں پہنچا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات محض سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک بڑے جیوپولیٹیکل ٹکراؤ کا حصہ ہیں، امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہےاور مزید بحری بیڑہ خلیج فارس کے نزدیک روآنہ کیا ہے جبکہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو صورتحال علاقائی جنگ میں بدل سکتی ہے، ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی بڑھی تو پورا مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے،اُدھر ایران نے آبنائے ہُرمز بند کرنے کیلئےزبردست فوجی مشقیں کی ہیں، جس میں جدید ہتھیاروں کا استعمال کرکے اس تنگ آبی گزرگاہ بند کرنے کا مظاہرہ کیا گیاجس کے بعد انقلاب اسلامی ایران کے قائد آیت اللہ خامنہ ای نے بلواسطہ طور اِن بیڑوں کو سمندر کی تہوں میں پہنچانے کی بات کی ہے، علاقائی ممالک اور تیل سے وابستہ کارروباری ماہرین تجزیہ کررہے ہیں کہآبنائے ہُرمز بند ہونے سے دنیا بھر میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوجائیگا اور خام تیل کی قیمت 200 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے اگرایسا ہوا تو یہ دنیا کیلئے غیرمعمولی واقعہ ثابت ہوگا، واشنگٹن میں پالیسی ساز افراد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اِن تمام خطرات سے آگاہ کررہے ہیں مگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے جو مذاکرات کے سلسلے کو ختم کرکے خطےکومحاذ آرائی کی طرف لے جانے کی سازشیں کررہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنیوا مذاکرات کا اصل سوال یہ نہیں کہ معاہدہ ہوگا یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا امریکہ اور اس کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی مرضی مسلط کر پائیں گی؟ ایران کا بیانیہ واضح ہےخودمختاری، دفاعی صلاحیت اور مزاحمتی بلاک پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، یہی وجہ ہے کہ تہران مذاکرات جاری رکھتے ہوئے بھی اپنی اسٹریٹجک سرخ لکیریں برقرار رکھے ہوئے ہے، اگر امریکہ دباؤ کی پالیسی جاری رکھتا ہے تو مزاحمتی محور مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جس کے اثرات لبنان،عراق،یمن، فلسطین اور پورے خطے میں دیکھے جا سکتے ہیں، اب نظریں مذاکرات کے اگلے مرحلے پر ہیں، فی الحال ایک بات واضح ہے جنیوا مذاکرات نے کشیدگی توکم نہیں کی مگر اُمید کی کرنیں دکھائی دے رہی ہیں اور آنے والے دنوں کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
بدھ, فروری 18, 2026
رجحان ساز
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا

