تحریر: محمد رضا سید
ایران کے معاشی ماہرین چند سال پہلے تک یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایرانی معیشت کی حالت اتنی درگوں ہو جائے گی کہ عوام سیاسی اختلافات کے بجائے معاشی ابتری پر سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل آئیں گے۔ پیر کے روز تہران کے مختلف علاقوں میں پُرزور احتجاج ہوا، جس میں ملک کی خراب معاشی صورتحال کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔
ایرانی کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے خلاف ردِعمل کے طور پر تہران کے وسطی علاقوں میں متعدد احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جبکہ تاجروں نے حالات میں بہتری کی کوئی امید نظر نہ آنے اور ملک کو درپیش متعدد جاری بحرانوں کے باعث اپنی دکانیں بند کر دیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران کے وسطی حصوں سے ملحقہ دیگر محلّوں میں بھی عوام نے شدید احتجاج کیا۔
سڑکوں پر مکمل حفاظتی سازوسامان کے ساتھ اینٹی رائٹ فورس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ متعدد ویڈیوز میں آنسو گیس کے استعمال اور مظاہرین کو منتشر کیے جانے کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔ مقامی تاجر مہدی روغنی نے بتایا کہ تہران کے گرینڈ بازار اور اس کے اطراف میں بڑی تعداد میں دکان مالکان نے خود سے اپنی دکانیں بند کر دیں تاکہ حکامِ بالا پر باور کرایا جا سکے کہ وہ معاشی حالات کے سُدھار کے لیے اقدامات کریں، بعض فوٹیجز میں چند افراد کو تاجروں کو دیگر دکانداروں سے بھی کاروبار بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے دیکھا گیا، سرکاری میڈیا اداروں نے احتجاجی مظاہروں اور تشدد کے واقعات کا اعتراف کیا ہے تاہم فوری طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ دکانداروں کے تحفظات محض معاشی حالات تک محدود ہیں، ریاستی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق موبائل فون فروخت کرنے والے تاجر ایرانی کرنسی ریال کی گرتی ہوئی قدر کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں، جس سے ان کے کاروبار کو براہِ راست خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
پیر کے روز ایرانی کرنسی ریال ایک بار پھر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جب دوپہر کے وقت امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر ایک لاکھ 42 ہزار 200 تومان سے تجاوز کر گئی، تاہم بعد ازاں اس میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ ریال کی تیز رفتار گراوٹ مہنگائی کے دباؤ کو مزید شدید بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور گھریلو بجٹ پر بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں متعارف کرائی گئی پیٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی اس صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ تاہم مسئلہ صرف کرنسی تک محدود نہیں؛ ایران گزشتہ کئی برسوں سے بڑھتے ہوئے توانائی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جو وقفے وقفے سے شدید فضائی آلودگی کا باعث بنتا رہا ہے، یہ آلودگی ہر سال دسیوں ہزار انسانی جانیں نگل لیتی ہے۔
اسی طرح پانی کے بحران کے باعث تہران اور ایران کے متعدد بڑے شہروں کو پانی فراہم کرنے والے بیشتر ڈیم بدستور انتہائی کم سطح پر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ تک محدود رسائی دی جاتی ہے۔ بیروزگاری اور مہنگائی دونوں میں بیک وقت اضافہ ہو رہا ہے اور یہ رجحان 2018ء سے برقرار ہے، ایرانی عوام کا لیونگ اسٹینڈرڈ مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، جس کے وہ پاکستان یا جنوبی ایشیائی ممالک کے عوام کی طرح عادی نہیں ہیں، کیونکہ ایرانی معاشرہ طویل عرصے سے یورپی طرزِ زندگی کا عادی رہا ہے، ایرانی بیوروکریسی اور مقتدر حلقے ملک کی اس صورتحال سے کافی حد تک الگ تھلگ اپنے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایران کو درپیش معاشی مسائل کی ایک بڑی وجہ امریکی اور یورپی پابندیاں ہیں، تاہم یہ واحد وجہ نہیں۔ ایران کی سول اور سکیورٹی بیوروکریسی سمیت منتخب نمائندوں پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں، اور یہ صورتحال بیت المال کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
جون 2025ء میں اسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے دوران ایرانی فورسز کی اعلیٰ کارکردگی نے عوام کو وقتی طور پر مشکلات جھیلنے پر آمادہ کر لیا تھا، تاہم معاشی ابتری کی مسلسل لہر اور حکام کی عدم توجہی نے ایک بار پھر عوام کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا، ریاستی شماریاتی مرکز کے مطابق دسمبر میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 42.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو نومبر کے مقابلے میں 1.8 فیصد زیادہ ہے، اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں خوراک کی قیمتوں میں 72 فیصد جبکہ صحت اور طبی اشیاء کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
معاشی ناقدین ان اعداد و شمار کو ممکنہ ہائپر انفلیشن کی جانب اشارہ قرار دے رہے ہیں، سرکاری ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے 21 مارچ سے شروع ہونے والے ایرانی نئے سال میں ٹیکسوں میں اضافے کے منصوبے نے عوام اور تاجروں میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے، واضح رہے کہ 2015ء میں ایرانی کرنسی کی سرکاری شرح 32 ہزار ریال فی ڈالر تھی، جو موجودہ صورتحال کے مقابلے میں ایک بالکل مختلف معاشی منظرنامہ پیش کرتی ہے، دوسری جانب دسمبر 2022ء سے مرکزی بینک کے سربراہ کے عہدے پر فائز محمد رضا فرزین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نور نیوز کے مطابق ان کا استعفیٰ صدر مسعود پزشکیان کے غور کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ بعد ازاں ایرانی سرکاری میڈیا نے صدر کے دفتر کے حوالے سے بتایا کہ سابق وزیرِ معیشت عبدالنصر حمّتی کو نیا مرکزی بینک گورنر مقرر کر دیا گیا ہے، ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت کی حالیہ معاشی لبرلائزیشن پالیسیوں نے اوپن مارکیٹ میں کرنسی پر دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست ریال کی قدر اور مہنگائی پر پڑ رہے ہیں۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی معیشت کساد بازاری کے خطرے سے دوچار ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں ایران کی مجموعی قومی پیداوار میں 1.7 فیصد اور 2026ء میں 2.8 فیصد کمی کا امکان ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہی ہے، ایران کی سیاسی قیادت اگرچہ ملک کے اندر معاشی بحران کو معمولی قرار دیتی ہے، تاہم جب معیشت شدید ابتری کا شکار ہو تو اہم سیاسی فیصلے کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے جبکہ خطے میں تیزی سے بدلتی سیاسی اور عسکری صورتحال ایران کے لئے کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔
منگل, جنوری 6, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

