فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو ہنستے ہوئے دیکھا گیا جب البانیہ اور آذربائیجان کے رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہیں کہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے البانیہ اور آذربائیجان کے درمیان جنگوں کا خاتمہ کر دیا ہے، کوپن ہیگن میں یورپی سیاسی کمیونٹی کے اجلاس کے دوران اُس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئے صدر میکرون کو آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھ کر البانی وزیراعظم ایڈی راما کو جعلی غصے میں آتے ہوئے دیکھا گیا اور اُنھوں نے صدر میکرون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو ہم سے معافی مانگنی چاہیئے کیونکہ آپ نے ہمیں اس امن معاہدے پر مبارکباد نہیں دی جو صدر ٹرمپ نے البانیہ اور آذربائیجان کے درمیان کرایا ہے، یہ تبصرہ ٹرمپ کی بار بار آرمینیا اور البانیہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری دشمنی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے غلطی کا حوالہ دیتا ہے، پچھلے مہینے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے غلط طور پر دعویٰ کیا میں نے ایسی جنگیں حل کیں جو حل نہ ہونے کے قابل تھیں، آذربائیجان اور البانیہ، یہ کئی، کئی سالوں سے میدان جنگ میں تھے، میں(ٹرمپ) نے وزیر اعظم اور صدر کو اپنے دفتر میں بلایا اور صلح کرادی، راما کا مذاق علیوف اور میکرون دونوں کو ہنسانے پر مجبور کر دیا۔ فرانسیسی رہنما نے مذاق کرتے ہوئے کہا میں ٹرمپ کی جانب سے آپ سے معذرت کرتا ہوں!، البانی رہنما نے ازرہ مذاق مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بہت محنت کررہے ہیں، اُن کا اشارہ صدر ٹرمپ کے نوبل انعام لینے کی خواہش کی طرف تھا، ٹرمپ نے اگست میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک معاہدہ کیا، جس میں دونوں آزری صدر علیوف اور آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان نے دہائیوں کی لڑائی کو ختم کرنے اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے پر اتفاق کیا لیکن ان کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے اوول آفس میں واپس آ کر ایک ثالث کی حیثیت سے کام کرکے سات جنگیں ختم کیں بلکل بے بنیاد اور جھوٹ ہے، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سربیا اور کوسوو، اور مصر اور ایتھوپیا کے درمیان جنگیں ختم کیں، اگرچہ ان قوموں کے درمیان طویل مدتی کشیدگیاں موجود ہیں لیکن حالیہ سالوں میں وہ مکمل جنگ میں نہیں گئے اور بھارت نے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ٹرمپ نے مئی میں پاکستان کے ساتھ دشمنی کو کم کرنے میں مدد کی تھی۔
ٹرمپ کے عالمی منظر نامے پر حالیہ ناکامی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے یہ کہنا ہے کہ وہ غزہ میں امن کیلئے امریکی صدر کے 20 نکاتی منصوبے کا مطالعہ کرنے کیلئے مزید وقت چاہتے ہیں، حماس ابھی بھی ٹرمپ کے منصوبے کے بارے میں مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے ثالثوں کو مطلع کیا ہے کہ مشاورت جاری ہے اور کچھ وقت درکار ہے، حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کیونکہ انہیں اس معاملے پر عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اتنا معلوم ہے کہ صدر ٹرمپ کے 20 نکات اسرائیل کو فیور میں ہے جو انصاف کے برخلاف ہے نیز حماس نے ترکیہ اور قطر پر واضح کردیا ہے کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور جنگ بندی پر اُس وقت عمل ہوگا جب اسرائیلی فوج غزہ سے نکل جائیں گی اور فضائی بمباری مستقل طور پر ختم کی جائے گی، ٹرمپ نے منگل کو حماس کو تین یا چار دن کا الٹی میٹم دیا کہ وہ فلسطینی علاقے میں تقریباً دو سالہ جنگ ختم کرنے کیلئے ان کا منصوبہ قبول کرے، یہ منصوبہ 72 گھنٹوں کے اندر یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا بتدریج انخلا کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے بعد ایک جنگ کے بعد کی عبوری اتھارٹی ہوگی جس کی قیادت خود ٹرمپ کریں گے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

