تحریر: محمد رضا سید
یمنی رہنماؤں پر کامیاب فضائی حملے کرنا امریکہ سمیت کسی بھی دشمن ملک کیلئے ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ زیادہ محفوظ اور جاسوسوں کی نظروں سے اوجھل ہیں، لبنان میں ایسا نہیں تھا جہاں امریکہ اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے باہمی تعاون نے اسرائیلی فضائیہ کو اس قابل بنایا کہ وہ امریکی معلومات اور زہریلی گیس کے حامل گائیڈڈ بموں کے ذریعے سید حسن نصر اللہ کو قتل کرنے میں کامیاب ہوئے، لبنان میں امریکہ اور اسرائیل دونوں کو زمینی انٹیلی جنس بھی میسر تھی، بیروت میں امریکی سی آئی اے سمیت قومی انٹیلی جنس کمیٹی کے فعال دفاتر موجود ہیں جنھوں نے حزب اللہ کے خلاف فیلڈ انٹیلی جنس نظام قائم کر رکھا ہے اور جسے شام میں موجود امریکہ کے غیرقانونی فوجی اڈے سے کنٹرول کیا جاتا تھا، صنعا میں ایک یمنی سکیورٹی ذرائع نے عرب میڈیا کو بتایا ہے کہ یمنی حکومت اور مزاحمتی تحریک انصار اللہ کے قائدین کے بارے میں امریکہ کے پاس انٹیلی جنس معلومات انتہائی ناکافی ہیں، یمن نے امریکہ اور برطانیہ سمیت خطے کے ملکوں پر مشتمل گروپ 3 کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو ایک سے زائد بار ختم کیا ہے اور متعدد جاسوسوں کو عوام کے سامنے پھانسی دی گیئں ہیں، جس کی وجہ سے یمنی حکومت اور انصار اللہ کے بارے میں امریکہ کے پاس فیلڈ انٹیلی جنس معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں یا ناقص ہیں، لندن میں موجود انٹیلی جنس ماہرین کا کہنا ہے یمن کا انٹیلی جنس نظام اعلیٰ درجے کے انٹیلی جنس نظام کی طرز پر قائم کیا گیا ہے، جسکی تربیت ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی زیر نگرانی ہوئی ہے۔
واشنگٹن نے ہفتے کے روز سے یمن پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے اور واشنگٹن جس کا مقصد یمن کی مزاحمت پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ وہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اہم عالمی جہاز رانی کے راستوں پر حملے بند کردےلیکن امریکہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ عالمی جہاز رانی کی کثیرالملکی کمپنیوں نے بحیرہ احمر کا کم لاگت والا چھوٹا راستہ ترک کردیا ہے اور تجارتی بحری جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد ایک مہنگے اور طویل چکر لگانے پر مجبور کر دیا ہے ، امریکی حملوں سے یمن کا دارلحکومت صنعا شدید متاثر ہوا ہے جبکہ منگل کو جاری امریکی حملوں میں شمالی اضلاع کو نشانہ بنیا گیا جہاں یمنی حکام کا اکثر آنا جانا ہوتا ہے، امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے کہا کہ حملوں میں متعدد یمنی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں باہر لے جایا گیا، یمن کی مزاحمتی تحریک انصار اللہ جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کے مزاحمتی محور کا اہم حصہ ہے، بحیرہ احمر کے بحری جہازوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کر رہی ہے، جسے وہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کی مہم کہتی ہے، منگل کو یمن نے 48 گھنٹوں میں اپنے تیسرے حملے کا دعویٰ کیا، جس کا نشانہ یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے اسٹرائیک گروپ میں معاون بحری جہاز تھا۔
اہم اور باوثوق ذرائع نے عرب میڈیا کو بتایا کہ یمنی قیادت کوسخت سکیورٹی اقدامات کے ذریعے بہت زیادہ محفوظ رکھا جارہا ہےاور انہیں ہوائی جہاز سے نشانہ بنانا ممکن نہیں ہے کیونکہ ان کی رہائش گاہوں کے بارے میں کوئی انٹیلی جنس دستیاب نہیں ہے، واشنگٹن کا کہنا ہے کہ جب تک یمنی فوج اپنے حملے بند نہیں کرتی اُس وقت تک یمن پر حملے جاری رکھے جائیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ یمن کی جانب سے کیے جانے والے مزید حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائیں گے، یمن کی بحیرہ احمر میں جاری فوجی کارراوئیوں نے جہاز رانی کے اہم راستے میں خلل ڈالا ہے، جس پر عام طور پر دنیا کی ٹریفک کا تقریباً 12 فیصد گزرتا ہے، ان حملوں نے بہت سی کمپنیوں کو افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد ایک مہنگے اور طویل چکر لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔
یمنی سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ یمن کی مزاحمتی تحریک انصار اللہ کے پاس ایسی عسکری ٹیکنالوجی ہے جو کسی اور مسلح گروپ کے پاس نہیں ہے جبکہ اُن کے پاس خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کا وسیع ڈیٹا موجود ہے اور وہ بحیرہ احمر کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، صنعا میں ایک اور یمن کی فورسز نے کہا ہے کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں اور اسلحہ بھیجنے والے ملکوں کے بحری مال بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے کی توقع کی جانی چاہیے لیکن ایک امریکی دفاعی اہلکار نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ یمن اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ جنرل الیکسس گرینکیوچ نے کہا کہ باغی 100 میل (160 کلومیٹر) سے زیادہ اپنے اہداف کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں، امریکی جھوٹ بولتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنے جنگی بحری جہاز کو کسی دوسرے مقام پر لنگرانداز کرنے پر مجبور کیوں ہوتے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہ باتیں کررہے ہیں جو اسرائیل اُن کے منہ میں ڈال رہا ہے مثلاً یہ کہ یمن کے دارلحکومت صنعاء پر حکم فرماں مزاحمتی تحریک انصار اللہ کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے، یمنی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کی غلط فہمی 24 گھنٹے سے کم عرصے میں دور کردی یمن بھر میں دسیوں لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے، بہت سے یمنی لوگ رائفلز، خنجر یا قرآن کے نسخے اُٹھائے ہوئے امریکہ مردہ باد کے نعرے انصار اللہ کے گڑھ صعدہ میں بھی بڑی تعداد میں لوگ شدید غصّے میں امریکہ کو للکار رہے تھے، المسیرہ چینل کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ دمار، حدیدہ اور امران میں ہزاروں یمنی مظاہروں میں شریک ہوئے اور امریکی حملوں پر اپنے غم و غصّے کا اظہار کیا،یمن نے کم و بیش آٹھ سال سعودی اتحاد سے جنگ لڑی ہے جس کی پشت پناہی امریکہ اور برطانیہ سمیت پورا یورپ کررہا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی یمنی فوج سے پنجہ آزمائی کی لیکن جب دبئی پر حملے شروع ہوئے تو وہ بھی اس جنگ سے دسبردار ہوگیا، امریکی صدر ٹرمپ کو غلط مشورے دیئے گئے ہیں وہ ایک ایسے ملک اور ایسی قوم سے لڑنے جارہے ہیں جونظریہ سے کھڑی ہے،جسکی حدود جغرافیہ میں قید ہوکر مظلوموں سے بے نیاز نہیں ہے،امریکہ جب اپنی طاقت کے اظہار کیلئے مختلف قوموں پر پابندی لگاسکتا ہے تو یہ حق یمن کو بھی حاصل ہونا چاہیے کہ اُس کے سمندروں کو دشمن استعمال نہ کرسکیں، یمن کو ایران کی حمایت ضرور حاصل ہے لیکن یہ مدد نظریاتی ہم آھنگی سے مربوط ہے ، کتنی فضول بات ہے کہ یمن کے عمل کو بنیاد بناکر کسی تیسرے ملک کو موردالزام ٹھہرایا جائے ٹرمپ کی بزدلی کا اظہار ہے ، امریکہ کو یمن سے مسئلہ ہے تو وہ یمن سے مقابلہ کرئے ایران کو دھمکی دینے کا جواز نہیں بنتا البتہ امریکہ یہ خواہش رکھتا ہے تو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اُسکے سامراجی دور کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
With every new follow-up
Subscribe to our free e-newsletter
جمعرات, اپریل 3, 2025
رجحان ساز
- ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ خواتین کی رہائی کیلئے دھرنا عید کے تیسرے روز بھی جاری رہا انٹرنیٹ بند
- ہنگری نے اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر عملدآمد سے انکار کردیا
- جوہری معاہدہ کیلئے تیار ہیں دھمکیاں نہیں چلیں گی امریکہ سے بلواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،عراقچی
- ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر اقوام متحدہ امریکی صدر کے بیانات کی مذمت کرئے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی عالمی تجارت اور جنوبی ایشیائی ملکوں کی ٹیکسٹائل صنعت کیلئے خطرہ
- بلوچستان میں بدامنی، صوبے کے چار اضلاع کی حدود میں قومی شاہراہوں پر سفر پر جزوی پابندی عائد
- زیلنسکی مستعفی ہوجائیں تاکہ یوکرین میں جنگ بندی کیلئے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جاسکے، روسی مطالبہ
- گیس فیلڈ حملہ، یوکرین کی فنی مدد کرکے برطانیہ اور فرانس کی جنگی شعلوں کا رُخ موڑنے کی کوشش
یمنی قیادت کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانا، امریکی مذموم منصوبہ کامیابی سے ہمکنار کیوں نہیں ہوسکتا
ایران تنہا یمن کو عسکری حوالے سے ٹیکنیکل مدد اور ہتھیار دینے والا ملک نہیں ہے امریکی سامراج کا وقت ختم ہونے کو ہے اور نظریہ کامیاب ہوگا کیونکہ مظلوم اور وطن سے محروم لوگ نظریاتی ہیں
7 تبصرے
جذب نیروی امریه در دانشگاه ایلام، فرصتی را برای فارغالتحصیلان واجد
شرایط فراهم میکند تا دوره
خدمت سربازی خود را در محیطی علمی و تخصصی سپری کنند.
مدارس فرزانگان، به عنوان زیر مجموعهای از مراکز آموزشی استعدادهای درخشان، با هدف شناسایی
و پرورش دانشآموزان مستعد، در
مقاطع متوسطه اول و دوم فعالیت
میکنند.
امریه اداره کل تعاون، کار و رفاه اجتماعی استان کرمانشاه، فرصتی برای فارغالتحصیلان دانشگاهی است تا دوره خدمت وظیفه خود را در محیطی تخصصی و مرتبط با رشته تحصیلیشان
سپری کنند.
زمان آغاز سال تحصیلی مدارس، با
فرارسیدن زمان آغاز سال تحصیلی
مدارس، دغدغه اصلی دانشآموزان و
اولیاء آنها، آگاهی از زمان دقیق
بازگشایی مدارس است.
لیست کامل دروس نهایی خرداد پایه یازدهم و دوازدهم، در
نظام آموزشی کشور ایران، امتحانات نهایی یکی از مهمترین بخشهای ارزیابی عملکرد دانشآموزان در مقاطع مختلف
تحصیلی به شمار میرود.
آزمون تیزهوشان ششم به هفتم، رقابت فشرده برای
ورود به مدارس تیزهوشان، ضرورت برگزاری آزمونی مجزا برای سنجش .هوش و استعداد دانشآموزان ششم به هفتم را ایجاب میکند
ثبت نام کنکور کارشناسی ارشد سراسری، فرآیندی است که
توسط سازمان سنجش آموزش کشور به منظور پذیرش دانشجویان در مقطع کارشناسی ارشد
در دانشگاههای دولتی و سایر مؤسسات آموزش عالی برگزار میشود.