صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے میریان اور ہوید کی حدود میں 2 الگ الگ ڈرون حملوں میں خاتون جاں بحق اور بچوں سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، پولیس ذرائع نے بتایا کہ پہلا ڈرون حملہ پولیس اسٹیشن اور دوسرا ڈرون حملہ ایک گھر پر ہوا، حملوں سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، بنوں ہسپتال کے ترجمان نعمان خان نے تصدیق کی ہے کہ خاتون کی لاش سمیت تین زخمیوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، مقامی ذرائع کے مطابق دوسرا کواڈ کاپٹر حملہ مریان پولیس سٹیشن پر ہوا، جس میں پولیس سٹیشن کی چھت پر لگے سولر پینلز کو نقصان پہنچا، اس حملے میں پولیس اہلکار محفوظ رہے، یہ اس تھانے پر تیسرا شدت پسندی کا تیسرا واقعہ ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون اونچائی پر پرواز کررہا تھا، جس وجہ سے اسے نشانہ نہیں بنایا جاسکا، جاں بحق ہونے والی خاتون کی لاش اور تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا گیا ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر موجود ہے، واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، یاد رہے کہ مئی کے مہینے میں خیبرپختونخوا کے وزیر ریلیف حاجی نیک محمد داوڑ نے شمالی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے میں 3 بچوں کی موت اور خواتین کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کی تھی، جبکہ مقامی افراد نے واقعے کے خلاف دھرنا دیا تھا، یہ واقعہ ضلع میر علی تحصیل کے ہرمز گاؤں میں پیش آیا تھا، صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ میں پہلے بھی خیبر پختونخوا اسمبلی کے فلور پر واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ ہر قسم کے آپریشن اور جنگی کارروائیوں کو شہری آبادیوں سے دور رکھا جائے تاکہ عام عوام بالخصوص معصوم خواتین اور بچوں کو نقصان نہ پہنچے، انہوں نے بتایا تھا کہ ہم ہر فورم پر اپنی آواز اٹھائیں گے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، وزیر ریلیف نے کہا کہ وہ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کریں گے، انہوں نے فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی تھی، آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ میر علی میں 19 مئی کو پیش آئے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، واقعے میں بدقسمتی سے کچھ شہری جانوں کا زیاں ہوا بعض حلقوں نے سکییورٹی فورسز پر بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔
واضح رہے کہ بنوں میں گذشتہ کئی مہینوں کے دوران متعدد شدت پسند حملے ہو چکے ہیں۔ مارچ میں بنوں کینٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے جواب میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 16 شدت پسند ہلاک جبکہ پانچ فوجی بھی مارے گئے تھے، پاکستانی شہریوں کے خلاف ڈرون حملوں اور شہریوں کی ہلاکتوں پر فورسز کے خلاف احتجاجی دھرنے دیئے گئے مگر حملے نہیں روکے گئے، پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز حملے شدت پسند مذہنی قوتوں کی جانب سے کئے جارہے ہیں جبکہ مقامی ذرائع اور خیبرپختونخواہ کی حکومت اِن حملوں کی ذمہ داری پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ پر ڈالتی ہے لیکن نقصان اور عدم تحفظ کا شکار عوام ہوتے ہیں، یاد رہے پاکستان کی فوج کے پاس ڈرون گرانے کی صلاحیتیں موجود ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ڈرونز حملوں میں پاکستانی فوج ملوث نہیں ہے تو دشمن کے فائر کردہ ڈرونز کو فوج کیوں نہیں سرنگوں کرتی ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

