جنوبی ایران کے شہر میں شہید رجائی بندرگاہ پر زوردار دھماکے سے آٹھ افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں ، دھماکے کے بعدہنگامی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاکہ صورتحال کو قابو میں کیا جا سکے، شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکے میں اسرائیل کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تاہم اسرائیل کے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کا اس دھماکے میں کوئی ہاتھ نہیں ہے، تاحال اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس بارے میں باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے، وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے بتایا کہ دھماکے سے مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے، ہفتے کے روز صوبہ ہرمزگان میں شہید رجائی بندرگاہ پر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ایندھن کا ٹینکر پھٹنے سے کم از کم 750 افراد زخمی بھی ہوئے، زخمیوں کو ہرمزگان کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، ہرمزگان کے کرائسس مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ دھماکا انتہائی زور دار تھاتاہم ابھی تک اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے، ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ دھماکہ پورٹ کمپلیکس کے اندر ایک انتظامی عمارت میں ہوا، دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے انتظامی عمارت مکمل طور پر تباہ اور کئی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، ایران کے ریلیف اینڈ ریسکیو آرگنائزیشن کے سربراہ بابک محمودی نے پریس ٹی وی کو تصدیق کی تھی کہ شہید رجائی میں ہونے والے زبردست دھماکے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
محمودی نے بتایا کہ دھماکے کی جگہ پر کیمیکل ذخیرہ کرنے کی سہولیات موجود تھیں، انہوں نے کہا کہ آگ گھنٹوں لگی رہی اور فائر فائٹرز اسے بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں صورتحال پر قابو پالیں گے، محمودی نے مزید بتایا کہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق 11:55 کے قریب ہوا، انہوں نے مزید کہا کہ کئی امدادی اور بچاؤ ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں، آگ بجھانے کیلئے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کئے گئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ایک اور ہیلی کاپٹر ہنگامی خدمات کے لیے روانہ کیا گیا تھا، اس واقعے کے بعد، تمام بندرگاہوں کی کارروائیوں کو معطل کر دیا گیا کیونکہ سیکیورٹی اور ہنگامی ٹیموں نے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کام کیا۔ حکام نے ممکنہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تیاری کیلئے فوری طور پر بندر عباس کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک خصوصی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا جس میں چار خصوصی پارلیمانی کمیشن برائے سول افیئرز، نیشنل سکیورٹی، انٹرنل افیئرز اور ہیلتھ کے ارکان شامل ہونگے، انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو صورتحال کا جائزہ لینے اور ردعمل کی کوششوں کا جائزہ لینے کیلئے سائٹ پر تحقیقات کرنے کا کام سونپا گیا ہے، ان کے مشن میں واقعہ سے نمٹنے اور متعلقہ حکام کی کارکردگی کے بارے میں ایک تفصیلی اور شفاف رپورٹ پارلیمنٹ کو فراہم کرنا شامل ہے۔
جمعرات, دسمبر 11, 2025
رجحان ساز
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!
- امن منصوبہ یوکرین کیلئے آپش محدود، جنگ روکنے 28 نکاتی پلان پر 3 یورپی ملکوں کی رخنہ اندازی
- عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی قرارداد بعد تہران قاہرہ مفاہمت کو ختم شدہ تصور کرتا ہے، عباس عراقچی
- فیصل آباد کیمیکل فیکٹری کے مالک و مینیجر سمیت 7 افراد کےخلاف دہشت گردی پھیلانےکا مقدمہ

