ہندوستانی زیر قبضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہندوستانی اداروں کے خود ساختہ آپریشن کے بعد بھارتی فوج اور خفیہ ادارے شدید دباؤ میں ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے اس واقعے کی عالمی سطح پر تحقیقات کے مطالبے کے بعد دفاعی پوزیشن پر دکھائی دیتی ہے، پاکستان اور ہندوستان کی سرحد پر نئی دہلی حکومت کی پیدا کردہ کشیدگی کے دوران کے دوران دشمن فوج نے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر اپنے ہی سکھ فوجیوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 5 سکھ اہلکار ہلاک ہوگئے، سرحدوں پر تعینات عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی 2 یونٹوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کردی 25 اور 26 اپریل کی درمیانی شب مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی 2 یونٹوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 5 سکھ فوجی ہلاک ہوگئے، ذرائع کے مطابق یہ واقعہ جاپالہ برج، بارہمولا سیکٹر میں گشت کے دوران پیش آیا، 185 بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) جو کہ بارہمولہ میں تعینات ہے نے 12 بریگیڈ کی 13 سکھ لائٹ انفنٹری رجمنٹ پر فائرنگ کی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارتی فوج میں پائی جانے والی بوکھلاہٹ کی جانب واضح اشارہ ہے، ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد 13 سکھ لائٹ انفینٹری کے سکھ جوانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات ہو چکے ہیں، دوسری طرف پاکستانی فوج پر اپنی سرحدوں کے دفاع کے لئے مکمل تیار ہے، بھارت کی جانب سے کسی طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔
واضح رہے کہ پہلگام میں مقامی سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے بے جا الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور سفارتی عملے کو مخصوص تعداد کو 30 اپریل 2025 تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی تھی، اس کے علاوہ بھی مودی حکومت نے پاکستان کے حوالے سے کئی جارحانہ فیصلے کیے، جن میں پاکستانیوں کے ویزوں کی منسوخی بھی شامل ہے، پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے جوابی اقدامات کرتے ہوئے بہترین سفارتی حکمت عملی کو اختیار کیا اور بھارت کے سفارتی عملے کو بھی 30 افراد تک محدود کر دیا گیا تھا، قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا تھا کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، پانی بند کیا گیا تو پاکستان اسے جنگ تصور کرے گا، جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ میں جعفر ایکسپریس حملے کا االزام ہندوستان پر عائد کیا ہے، اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو قبول کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا، تاہم بھارت کی جانب سے امن کیلئے اقدامات کے بجائے روایتی ہٹ دھرمی کا سلسلہ برقرار ہے۔
بدھ, جنوری 14, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

