بلومبرگ نے منگل کو رپورٹ کیا کہ جرمنی اسرائیل کے ساتھ اپنے فوجی اور تجارتی تعلقات پر نظر ثانی کر رہا ہے، یہودی ریاست کے کٹر حامیوں میں سے ایک برلن کی طرف سے حیران کن تبدیلی کی وجہ غزہ میں بگڑتا ہوا انسانی بحران اور اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات پر اُسکی تشویش اور تل ابیب کا مایوس کُن ردعمل ہے، بلومبرگ کی حاصل کردہ معلومات کے مطابق مئی کے وسط میں جرمنی کا غصہ بڑھ گیا جب اسرائیل نے غزہ میں عام فلسطینیوں کے خلاف اپنی جنگی مہم تیز کردی اور انسانی امداد کو روکنا جاری رکھا، جرمنی ایک دیرینہ پالیسی پر قائم ہے کہ اسرائیل کی حفاظت کرنا ہولوکاسٹ کے بعد اسکی ذمہ داری ہے، یہ اسرائیل کا سب سے بڑا یورپی ہتھیار فراہم کرنے والا ملک اور اس کے اعلیٰ تجارتی شراکت داروں میں سے ایک رہا ہے، 20 ماہ قبل جنگ شروع ہونے کے بعد جرمنی کے اس طرح کے پہلے عوامی تبصروں میں، چانسلر فریڈرک مرز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حماس کے حملوں کے خلاف جنگ سے انسانی صورتحال کو نظر انداز کرنے کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اتوار کو بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک فون کال کے دوران چانسلر مرز نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں فوری طور پر انسانی امداد کی اجازت دیں، یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے جولین بارنس ڈیسی نے بلومبرگ کو بتایا کہ یہ اس بات کا حقیقی عکاس ہے کہ معاملات کس طرح آگے بڑھ رہے ہیں، زیادہ تر یورپی حکومتوں کیلئے اسرائیل کی سلامتی کیلئے مضبوط جاری وعدوں کے باوجود اسرائیل کی جنگ کی حمایت جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔
اسرائیل کو طویل عرصے سے غزہ کیلئے انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا ہے، جس میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مکمل ناکہ بندی اور محصور پٹی میں خوراک، ایندھن اور ادویات پر بار بار پابندیاں شامل ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات حماس تک پہنچنے سے روکنے کیلئے ضروری ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ شہریوں پر اس کا اثر تباہ کن ہے، برلن کا اسرائیل سے متعلق پالیسی میں شفٹ پورے یورپ میں وسیع تر عدم اطمینان کا عکس ہے، برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ بھی اسرائیل پر تجارت اور ہتھیاروں کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس نے مئی میں کہا کہ یورپی یونین اسرائیل تجارتی معاہدے پر نظرثانی کے حق میں مضبوط اکثریت ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے مطابق، یورپ اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، جس میں گزشتہ سال 47 بلین ڈالر کی اشیاء کا تبادلہ ہوا، گزشتہ ہفتے اسرائیل نے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعے امداد کی تقسیم کا ایک نیا نظام شروع کیا جوکہ امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ اقدام ہے، تاہم اس کوشش کو پہلے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاچکا ہے کیونکہ متعدد ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جہاں امداد کے خواہاں فلسطینیوں کو شہید کیا گیا، فلسطینی محکمہ صحت کے حکام اور عینی شاہدین کے مطابق منگل کے روز رفح میں تقسیم کے مقام کے قریب کم از کم 27 فلسطینی شہید ہوئے، اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں نے ان افراد پر گولیاں چلائیں جو مقررہ راستوں سے بھٹک گئے تھے اور ممکنہ خطرہ تھے، حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 54,000 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
ہفتہ, مارچ 7, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

