جسٹس (ر) شاہنواز طارق نے مونس علوی کو ایک خاتون ملازمہ، سابق چیف مارکیٹنگ آفیسر مہربین زہرہ کی جانب سے دائر شکایت کی بنیاد پر ملازمت سے ہٹانے کا حکم دیا، جس شخص اور ادارے سے اہل کراچی ہمیشہ نالاں رہے اور جو شہریوں کی تذلیل کرنے میں عار نہیں کرتا تھا وہ آج قانون کی گرفت میں آکر رسوائی سمیٹ رہے ہیں، صوبائی محتسب سندھ نے کے الیکٹرک کی سابق چیف مارکیٹنگ افسر مہرین زہرہ کو ہراساں کرنے پر کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے، جسٹس(ر) شاہ نواز طارق نے عدم ادائیگی جرمانہ پر مونس علوی کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی ضبطی جبکہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کی ہدایت کردی ہے، صوبائی محتسب اعلیٰ جسٹس (ر) شاہ نواز طارق نے کے الیکٹرک کی سابق چیف مارکیٹنگ افسر مہرین زہرہ کی درخواست پر سی ای او کے الیکٹرک کو برطرفی اور جرمانے کی سزا سنادی، سی ای او کے الیکٹرک کے خلاف خاتون مہریں زہرہ نے شکایت درج کروائی تھی، صوبائی محتسب نے مونس علوی پر 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا کہ سی ای او کے الیکٹرک پر الزام ثابت ہوتا ہے لہذا وہ ایک ماہ میں جرمانے کی رقم ادا کریں، صوبائی محتسب نے کہا کہ سی ای او کے الیکٹرک نے شکایت کنندہ مہرین زہرہ کو ہراساں اور ذہنی اذیت میں مبتلا کیا، مونس علوی اگر جرمانے کی رقم ادا نہ کریں تو ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے جبکہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کیا جائے، مونس علوی کے خلاف کے الیکٹرک کی سابق چیف مارکیٹنگ افسر مہرین زہرہ نے شکایت درج کرائی تھی، شکایت کنندہ کو 2019 میں کے الیکٹرک نے بطور کنسلٹنٹ رکھا تھا، یاد رہے کہ کے الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے رواں ماہ ہی مونس علوی کو دوبارہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کیا تھا، کے الیکٹرک کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز بتایا گیا تھا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے 7 جولائی کے اجلاس میں سید مونِس عبداللہ علوی کو 30 جولائی 2025 سے کے-الیکٹرک کا دوبارہ چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کر دیا ہے۔
کے الیکٹرک کے مطابق مونس علوی 2008 میں کے-الیکٹرک میں شامل ہوئے تھے اور سی ای او بننے سے پہلے وہ کمپنی میں چیف فنانشل آفیسر، کمپنی سیکریٹری اور ہیڈ آف ٹریژری جیسے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، مونس علوی نے اس فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اصطلاحاتی اظہار اور پیشہ ورانہ تعلقات میں ہمیشہ دیانت اور وقار کو ملحوظ رکھا ہے اور یہ فیصلہ ان کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہے، اُنھوں نے کہا کہ یہ نتائج حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے، انہوں نے کہا کہ وہ قانونی راستے استعمال کرتے ہوئے حقائق سامنے لائیں گے، واضح رہے کہ کے الیکٹرک کراچی میں واحد بجلی کی تقسیم کار کمپنی ہے، جس کے کنٹرول کے معاملات متنازعے رہے ہیں، 2009 میں ابراج گروپ نے کنٹرول حاصل کیا لیکن 2018 میں اس کا کنٹرول ختم ہونے کے باوجود پاکستان نے کوئی مؤثر قانونی اقدام نہیں کیا گیا جبکہ ادارے کی کارکردگی پر سخت عوامی تنقید رہی اسے لوڈشیڈنگ، برق چوری اور صارفین کو ذہنی اذیت دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا ہے اور نورمل صارفین کے بلز میں اضافہ اور عدم شفافیت کے الزامات بھی اٹھتے رہے، یاد رہے مہربین عزیز خان نے 2019 میں کے الیکٹرک کے ساتھ کام کے دوران مونس علوی کے خلاف دباؤ، ذاتی نوعیت کی باتیں، جسمانی ساخت پر غیر مناسب تبصرے اور ذہنی اذیت پہنچانے کے الزامات عائد کئے تھے، یہ فیصلہ پاکستان میں کارپوریٹ احتساب کی جانب ایک سنگِ میل قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے خصوصاً خاتون ملازمین کے خلاف کام کرنیکی جگہ کی اخلاقیات کی پاسداری کو یقینی بنائے گا۔
پیر, اپریل 20, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

