Close Menu
Meezan News

    With every new follow-up

    Subscribe to our free e-newsletter

    اختيارات المحرر

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, فروری 20, 2026
    رجحان ساز
    • بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
    • امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
    • فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
    • اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
    • تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
    • ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
    • امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
    • لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
    Meezan NewsMeezan News
    For Advertisment
    • ہوم
    • بریکنگ نیوز
    • تازہ ترین
    • پاکستان
    • عالم تمام
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • فن و فرھنگ
    • کالم و بلاگز
    • ہمارے بارے میں
    • رابطہ
    Meezan News
    You are at:Home»تازہ ترین»ترک صدر رجب طیب اردوان کی کمزور ترین سیاسی پوزیشن کیساتھ اپوزیشن کو نہیں کچل سکیں گے
    تازہ ترین

    ترک صدر رجب طیب اردوان کی کمزور ترین سیاسی پوزیشن کیساتھ اپوزیشن کو نہیں کچل سکیں گے

    ایک حالیہ سروے میں اس کی پارٹی کی حمایت 30 فیصد سامنے آئی ہے جو کم وبیش دو دہائیوں میں کم ترین ہے، اردوگان نے اپوزیشن کو کچلنے کا جو طریقہ کار اپنایا وہ دنیا بھر میں ناکام ثابت ہوا ہے
    shoaib87مارچ 24, 2025Updated:مارچ 29, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    تحریر: محمد رضا سید
    ترکیہ میں صدر رجب طیب اردوگان کے اہم سیاسی حریف اور مقبول اپوزیشن رہنما کی گرفتاری کے بعد سے پولیس نے صحافیوں سمیت 1100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، اُدھر ترکی کی مرکزی سیاسی جماعت پیپلز ریپبلکن پارٹی نے جیل میں قید استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کو 2028ء کے صدارتی انتخاب کے امیدوار کے طور پر منتخب کرلیا ہے، پارٹی کے ایک ترجمان نے ان کی صدارتی نامزدگی کا اعلان کیا ہے، فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ ہفتے صدر اردوان کے اہم حریف اور استنبول کے میئر اکرام امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد استنبول میں مظاہرے ترکی کے 81 صوبوں میں سے 55 سے زائد صوبوں تک پھیل گئے، مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور اس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی، 53 سالہ مقبول سیاست دان اکرام امام اوغلو کو ترکی میں وسیع پیمانے پر ایک واحد سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو انتخابات میں ترکی کے طویل عرصے سے حکمران چلے آرہے رجب طیب اردوان کو شکست دے سکتے ہیں، اوغلو کو صرف چار دنوں میں استنبول کے میئر سے بدعنوانی اور دہشت گرد بنا دیئے گئے، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی پُر تشدد تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انہیں جیل بھیج کر میئر شپ سے بھی محروم کردیا گیا، واضح رہے ترکی کی ریپبلکن پیپلز پارٹی ترکیہ کی ایک اہم اپوزیشن جماعت اور پارلیمنٹ کی دوسری بڑی جماعت ہے، جس نے صدر اردوگان کے اس عمل کو سیاسی بغاوت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ادردوگان ملک کو آمرانہ انداز میں چلارہے ہیں اور حزب اختلاف کو سیای سرگرمیوں کیلئے اسپس تنگ کررہے ہیں، صدر اردوگان چاہتے ہیں کہ وہ تامرگ ترکیہ کے صدر رہیں تاکہ اُن کے خلاف انسانی حقوق کی خلاد ورزیوں، بدعنوانیوں اور بیرون ملک مداخلت کی تحقیقات نہ کھل سکیں، اردوگان حکومت نے 19 مارچ سے 23 مارچ کے درمیان کی احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کرنے والے 1,133 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، انقرہ کا کہنا ہے کہ ان میں 12 مختلف دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
    ترکی میں صدر ایردوگان کے اہم سیاسی حریف اور استنبول کے میئر کو جیل میں ڈالے جانے پر احتجاجی مظاہروں کے دوران متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا، میڈیا ورکرز کی یونین نے پیر کو رپورٹ کیا کہ استنبول کے میئر کی گرفتاری کے بعد سے بڑھتے ہوئے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس دوران مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد صحافیوں کو گرفتار کرلیا، ترکی میں احتجاج کی کوریج پر مکمل سنسر شپ عائد ہے اور صدر اردوگان نے احتجاجیوں کو اسٹریٹ دہشت گردی قرار دیا ہے، اکرم امام اوغلو کو مجرمانہ تنظیم چلانے، رشوت لینے، بھتہ خوری اور غیر قانونی طور پر ذاتی ڈیٹا ریکارڈ کرنے کے شبے میں جیل بھیج دیا گیا تھا، جبکہ اوغلو ان الزامات کی تردید کر چُکے ہیں، ترکیہ کی ایک عدالت نے اوغلو کے خلاف دہشت گردی سے متعلق الزامات میں قید کی سزا سنانے کی درخواست مسترد کردی ہے تب بھی انہیں پراسیکیوشن کا سامنا ہے، صدر اردوگان سنہ 2003 سے ترک سیاست پر چھائے ہوئے ہیں اور اس دوران 2015ء میں ایک خونی فوجی بغاوت کا سامنا بھی کرچکے ہیں، صدر اردوگان نے سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کے مقابلے میں قطر کی حمایت کی جب سعودی عرب نے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ساتھ مل کر قطر کی ناکہ بندی کی تھی تاہم اب قطر کے حکمران خاندان اور سعودی شاہی حکومت کے درمیان تعلقات خوشگوار ہوچکے ہیں، یاد رہے قطر کی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے ناکہ بندی جون 2017 میں کی گئی تھی اور جنوری 2021 میں میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے قطر کے ساتھ تعلقات بحال کرلئے تھے، قطر نے خطے میں سعودی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے لئے ترکی اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے، جو سعودی عرب کے لئے ناقابلِ قبول تھا۔
    ترکیہ کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے جن میں افراطِ زر کی بلند شرح اور کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی شامل ہیں، اس کے نتیجے میں بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور عوام کی زندگی مزید مشکل ہوگئی ہے، صدر اردوان کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کی پالیسی کو معاشی ماہرین کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، یہ پالیسی ترکیہ کی کرنسی کی قدر میں مزید کمی اور افراطِ زر میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، جس سے معاشی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے، معاشی مشکلات کے باوجود ترک صدر اردوگان نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اپنی پوری توجہ اور مالی وسائل شام کے سابق حکمران بشار الاسد کی حکومت گرانے پر لگادی، روس سے فضائی دفاعی نظام کی خریداری اور شام میں سیاسی نظام کی تبدیلی کیلئے روسی حمایت کے حصول کے بعد مغرب میں ترکیہ کی تنہائی بڑھ گئی ہے، امریکہ شام سے اپنی افواج کو نکالنا چاہتا ہے اور وہاں اپنے تربیت یافتہ مسلح گروہوں شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) اور عوامی تحفظ یونٹس (وائی پی جی) کا واضح اور قابل قبول رول چاہتا ہے لیکن صدر اردوگان نے اِن دونوں مسلح گروہوں کو کردستان ورکرز پارٹی کا جزو قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیدیا ہے جبکہ ترکی متعدد بار شام کے کرد علاقوں میں داخل ہوکر وائی پی جی کے مسلح گروہ کے خلاف فوجی آپریشن کرتا رہتا ہے، ترکی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ وائی پی جی سے تعلق ختم کرے لیکن امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایس ڈی ایف کو واشنگٹن کا اہم اتحادی سمجھتا ہے اور ان کی مدد جاری رکھے گا جبکہ ترکی احمد الشرع(سابقہ نام ابومحمد الجولانی) کی ھیئت تحریر الشام(ایچ ٹی ایس) کی حمایت کرتا ہے اور اسکو تخت دمشق پر بیٹھا دیا ہے، اِن وجوہات نے بھی صدر اردوگان کو ملک میں بہت کمزور کردیا ہے اور ایسا احساس جنم لے رہا ہے کہ اردوگان کو بھی بشار الاسد کی طرح کے انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور صدر ٹرمپ بھی ایسی ہی خواہش رکھتے ہونگے، اردوگان کی حکمران پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ (اے کے پی) کی مقبولیت میں زبردست کمی آئی ہے ایک حالیہ سروے میں اس کی پارٹی کی حمایت 30 فیصد سامنے آئی ہے جو کم وبیش دو دہائیوں میں کم ترین ہے، اردوگان نے اپوزیشن کو کچلنے کا جو طریقہ کار اپنایا وہ دنیا بھر میں ناکام ثابت ہوا ہے، اس بات میں پاکستان کیلئے ایک سبق ہے۔

    ترکیہ میں اردوگان کمزور
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلوس پر سندھ پولیس کا تشدد، سمی دین بلوچ سمیت 6 کارکن گرفتار
    Next Article نیو جیو پولیٹیکل آرڈر کا نفاذ کی کوششیں کامیاب ہوسکتی ہیں، امریکہ اور چین کو ایک پیج پر آسکتے ہیں؟
    shoaib87
    • Website

    Related Posts

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار

    فروری 10, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

    مقبول مضامين

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026

    اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار

    فروری 10, 2026
    پاکستان
    عالم تمام فروری 18, 2026

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    تحریر: محمد رضا سید بنگلہ دیش ایک بار پھر تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا…

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026
    ہمیں فالو کریں
    • Facebook
    • YouTube
    • TikTok
    • WhatsApp
    • Twitter
    • Instagram
    Visitor Counter
    1245660
    Most Watched

    امریکی صدر کے 20 نکات ردی دان کی نذر ہوگئے، حماس کے 8 نکات جنگ بندی کی بنیاد ہوں گے

    اکتوبر 9, 202516,425 Views

    پاکستان میں جمہوریت کا زوال 165 ملکوں میں 124ویں نمبر پر آگیا، 10 بدترین ملکوں میں شامل

    فروری 28, 202516,339 Views

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بیدخلی کا منصوبہ پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

    مئی 5, 202516,194 Views
    Editor's Picks

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026
    © 2026 میزان نیوز
    • Home

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.