پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، دورہ امریکا ہر لحاظ سے کامیاب رہا، امریکی وزیر خارجہ کو باور کرایا کہ مذاکرات کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں، نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، ہر موقع پر فلسطین کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا، امریکی وزیر خارجہ سے تجارت اور ٹیرف سے متعلق گفتگو کی، اسحاق ڈار نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ڈائیلاگ ہوا تو جامع ہوگا، ہندوستان جب بھی جامع ڈائیلاگ کرنا چاہے، پاکستان تیار ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا، پاکستان نے فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت اور ایک قابلِ عمل، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو اور اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، پاکستان کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق نیویارک میں سعودی عرب اور فرانس کی میزبانی میں منعقدہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس بعنوان فلسطین کے مسئلے کے پرامن اور دو ریاستی حل کا نفاذ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پچھلے 75 سالوں سے فلسطینی عوام قبضے، جلاوطنی اور اپنے بنیادی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت، سے محرومی کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ طویل ناانصافی صرف ایک سیاسی ناکامی نہیں بلکہ انسانی اخلاقات پر دھبہ اور بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئے ایک مستقل خطرہ ہے جبکہ آج کا غزہ بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کا قبرستان بن چکا ہے، اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے خواتین اور بچوں سمیت 58 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قتلِ عام اور تباہی بین الاقوامی انسانی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے لازمی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اسحاق نے کہا کہ انسانی امداد کی ناکہ بندی، مہاجر کیمپوں، ہسپتالوں اور امدادی قافلوں جیسے شہری ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بناکر اسرائیل قانونی اور انسانی اقدار کی تمام سرخ لکیروں کو عبور کر چکا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے کا عمل فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور عالمی برادری کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئیں، انہوں نے غزہ اور تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر مشروط، فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2735 کے نفاذ پر زور دیا، انہوں نے اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ بنانے اور اس کی سزا سے بچاؤ کی روش کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ ایک حقیقی اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل شروع کیا جانا چاہیے جو فلسطین پر قبضے کے خاتمے پر منتج ہو، کانفرنس کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اسرائیل سے فوری طور پر غزہ سے انخلا کا مطالبہ کرنا چاہیے جبکہ غزہ کی تعمیر نو اقوام متحدہ کی قرارداد 2735 اور او آئی سی عرب منصوبے کے تحت ہونی چاہیے، دریں اثنا وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ عبداللہ الیحییٰ سے ملاقات کی ہے، دونوں کے درمیان ملاقات بین الاقوامی فلسطین کانفرنس کی سائیڈ لائنز ملاقاتوں کے دوران ہوئی، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات کی مزید مضبوطی سمیت تجارت سکیورٹی اور دفاع کے شعبہ جات میں تعاون کا اعادہ کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ اور او آئی سی کے ساتھ مزید معاونت پر اتفاق کیا، اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کیلئے اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں پر اتفاق کیا گیا۔
جمعرات, مارچ 12, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

