ایرانی پولیس فورسز نے ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد اور دیگر غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جو حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر ہونے والے ایک مہلک حملے کے ذمہ دار تھے، پولیس کے ترجمان جنرل سعید منتظرالمہدی نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی قانون نافذ کرنے والی کمانڈوز اہلکاروں نے انٹیلی جنس اور سکیورٹی یونٹس کے ساتھ مل کر بدھ کے روز کامیاب آپریشن کیا جس کے نتیجے میں تمام دہشت گردوں ہلاک اور اِن کی کمین گاہیں تباہ کردیں ہیں، منتظرالمہدی کے مطابق ہلاک شدہ دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جو سرحد پار سے ایران میں بھیجے گئے تھے، 22 اگست کو ایرانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پانچ اہلکار ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوگئے تھے۔ دہشت گردوں نے ایران شہر کاؤنٹی کے دمن ڈسٹرکٹ میں گشت کرنے والی دو پولیس یونٹس کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ڈیوٹی پر موجود تھے، اس حملے کی ذمہ داری کالعدم جیش العدل نامی تنظیم نے قبول کی، جسے امریکہ اور اسرائیلی انٹیلی جنس کی معاونت حاصل ہے، یہ جرم 26 جولائی کے ایک اور سنگین دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیا، جب جیش العدل کے تین مسلح دہشت گردوں نے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں صوبائی عدالت پر حملہ کیا تھا، اس دانستہ شہریوں پر کیے گئے حملے میں چھ بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک ماں اور اس کا چھ ماہ کا شیرخوار بچہ بھی شامل تھے جبکہ 24 دیگر افراد زخمی ہوئے، سیستان و بلوچستان صوبہ، جو پاکستان کی سرحد سے متصل ہے، گزشتہ برسوں کے دوران متعدد دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے جن میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کو ٹارگٹ بنایا گیا، ایران کے جنوب مشرقی اور جنوب مغربی حصوں میں ایرانی مفادات کے خلاف حملے کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مارے گئے عسکریت پسند اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے تربیت یافتہ تھے اور ایران کے حساس علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، گزشتہ سال 26 اکتوبر کو صوبہ تفتان کاؤنٹی کے گوہر کوہ ڈسٹرکٹ میں دہشت گرد حملے کے نتیجے میں ایران کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے دس ارکان شہید ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری بھی جیش العدل نامی دہشت گرد گروپ نے قبول کی تھی، جو صوبے میں حالیہ مہینوں کے دوران سب سے مہلک حملوں میں شمار ہوتا ہے، ایرانی حکام کے مطابق سیستان بلوچستان صوبہ سرحدی ہونے کے باعث اکثر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، تاہم حالیہ کامیاب کارروائیوں نے ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ایران کے اس صوبے میں منشیات کی اسمگلنگ، سرحدی جھڑپیں اور دہشت گردانہ کارروائیاں اس علاقے کو ہمیشہ حساس بنائے ہوئے ہیں، اسی طرح اس صوبے میں ایران کو برسوں سے علیحدگی پسند اور مذہبی شدت پسند گروہوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے، جنھیں امریکہ سمیت بعض عرب ملکوں کی حمایت حاصل ہے، اس سب کے تناظر میں ایران نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سخت اور جامع کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا تاکہ نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں بلکہ عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

