فرانسیسی حکام اور ذرائع نے کہا ہے کہ چور اتوار کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع عجائب گھر سے انمول زیورات لے اڑے، تفصیلات کے مطابق پیرس میں واقع لوور میوزیم سے 19 اکتوبر 2025 کو صبح کے وقت چوروں نے دیدہ دلیری سے آٹھ قیمتی شاہی زیورات چرائے، جن میں نپولین اور دیگر شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے تاج، ہار اور بالیاں شامل ہیں، یہ زیورات تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے انمول ہیں، اگرچہ ان کی مالی قدر کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، چوروں نے جدید اور طاقتور آلات اور اوزاروں سے لیس ہوکر دنیا کے مشہور عجائب گھر میں داخل ہونے کیلئے عمارت میں فرنیچر رکھنے اور اتارنے والی لفٹ استعمال کی، واردات صرف 4 سے 7 منٹ میں مکمل ہوئی، چوروں نے ٹرک پر نصب مکینیکل لفٹ کا استعمال کرکے دوسری منزل کی کھڑکی توڑی، شوکیس توڑے اور موٹر سائیکلوں پر فرار ہوگئے، دو زیورات فرار کے دوران گرگئے جنہیں انتظامیہ نے برآمد کرلیا، ملزموں کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ ماہر چوروں نے اس حیران کن چوری کے دوران کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، فرانس کی ثقافت کی وزیر رشیدہ داتی نے بتایا کہ چوری شدہ اشیا میں سے ایک میوزیم کے قریب پڑی ملی، اس چوری نے جو حالیہ مہینوں میں کسی فرانسیسی میوزیم کو نشانہ بنانے والا تازہ ترین واقعہ ہے، لوور کو فی الحال بند کردیا گیا ہے، لوور وہ میوزیم ہے جہاں دنیا کے مشہور ترین فن پارے رکھے گئے ہیں، جن میں مونا لیزا کی تصویر بھی شامل ہے، چوری کے بعد اہرام مصر کی شکل کے عجائب گھر کے داخلی راستے پر مسلح فوجیوں نے گشت شروع کردیا جب کہ پولیس کو عمارت کے اندر جاتے دیکھا گیا، عجائب گھر کو سیاحوں سے خالی کرالیا گیا اور قریب سے گزرنے والوں کو پولیس کے لگائے فیتے سے دور رکھا جارہا ہے، اس دوران عجائب گھر کی قریبی سڑکیں بند ہیں، فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نیونیز کا کہنا ہے کہ تین یا چار چوروں نے انمول زیوات چرانے کیلئے فرنیچر اتارنے چڑھانے والی لفٹ استعمال کی، یہ زیورات میوزیم کی اپالو گیلری میں نمائش کیلئے رکھے گئے تھے۔
پیرس کے استغاثہ کے دفتر نے منظم گینگ کی جانب سے سنگین چوری کے الزام میں مکمل تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور 60 تفتیش کاروں کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، فرانسیسی وزراء نے سکیورٹی کے نظام میں کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے اور صدر ایمانوئل میکرون نے اسے قومی ورثے پر حملہ قرار دیا ہےعوامی شخصیات نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے قومی ورثے پر حملہ قرار دیا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ زیورات کو توڑ کر کالے بازار میں فروخت کیا جا سکتا ہے لیکن بین الاقوامی الرٹ کی وجہ سے بازیابی ممکن ہے، فرانسیسی پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، چھوڑے گئے اوزاروں اور فرار کے راستے کی جانچ شروع کی جبکہ انٹرپول کو الرٹ کردیا گیا ہے،
اتوار کی صبح 9:30 بجے کے قریب، جب لوور میوزیم ابھی کھلا ہی تھا، چار چوروں نے دریائے سین کی جانب سے ایک مکینیکل لفٹ کا استعمال کرکے گیلری ڈی اپولو میں داخل ہوئے، انہوں نے بیٹری سے چلنے والے کاٹنے والے اوزار سے کھڑکی کا شیشہ کاٹا، الارم بجنے کے باوجود گارڈز کو دھمکیاں دیں، دو شوکیس توڑے اور زیورات لوٹ کر فرار ہونے کے دوران انہوں نے لفٹ کو آگ لگانے کی کوشش کی جو ایک ملازم نے ناکام بنا دی، یہ واردات انتہائی پیشہ ورانہ تھی اور کسی کو چوٹ نہیں آئی، چوری ہونے والے زیورات 19ویں صدی کے ہیں اور فرانسیسی شاہی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں، دو اشیاء ملکہ یوجینی کا تاج اور ایک اور ایک زیور میوزیم کے قریب سے ملیں لیکن باقی تمام زیوارات غائب ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زیورات کو توڑ کر انفرادی طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے، جو بازیابی کو مشکل بنا دیتا ہے، فرانسیسی وزارت ثقافت نے چوری ہونے والے تاج اور زیوات کو انمول ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے یہ واقعہ لوور میوزیم کی سکیورٹی میں ممکنہ کمزوریوں کو سامنے لاتا ہے، جو 2020 میں مرمت کے بعد دوبارہ کھولا گیا تھا، میوزیم کے ملازمین نے حال ہی میں ہجوم اور کم عملے کی شکایات کی تھیں، فرانس میں حالیہ مہینوں میں میوزیم چوریوں کا سلسلہ جاری ہے، جیسے لیموج میوزیم سے 95 لاکھ یورو کی چینی مٹی کی اشیاء کی چوری، کوگناک جے میوزیم سے سات اشیاء کی چوری اور برگنڈی کے ہییرون میوزیم سے مسلح ڈکیتی ہوئی، یہ واقعات میکرون حکومت پر ثقافتی ورثے کی حفاظت کیلئے مزید سرمایہ کاری کا دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
منگل, جنوری 27, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

