تحریر: محمد رضا سید
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالی باف اسلام آباد پہنچنے پر پاکستان کے ساتھ تعاون کو کثیر الجہت بنانے کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ اُن کی گفتگو کا محور تجارتی، سیاسی اور سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانا اور پارلیمانی تعاون کو فروغ دینا ہوگا، یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں اہم جغرافیائی و سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور ایران و پاکستان دونوں تجارت، سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے باہمی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک عملی تعاون بڑھائیں:
باقرقالیباف نے کہا کہ بدقسمتی سے ایران اور پاکستان ،دو ہمسایہ مسلم اکثریتی ممالک تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہونے کے باوجود بین الاقوامی پابندیوں اور سرحدی سلامتی کے چیلنجز کے باعث سیاسی، معاشی اور تجارتی تعلقات کو مطلوبہ وسعت نہیں دے سکے، ان کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر شعبے میں تعاون بڑھائیں، یہ مذاکرات تہران کی اُس وسیع تر علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت ایران اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانا چاہتا ہے۔پارلیمانی و تجارتی روابط کی نئی جہت:
ایران اور پاکستان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے بے پناہ امکانات رکھتے ہیں، ایرانی اسپیکر نے خواہش ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے پارلیمانی گروپس کے تبادلوں سے باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا، اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران قالیباف قومی اسمبلی کے اسپیکر، سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے، ان کے پروگرام میں لاہور اور کراچی کے دورے بھی شامل ہیں، جہاں وہ تاجروں، مذہبی اسکالروں اور ثقافتی شخصیات سے ملاقات کریں گے، یہ دورہ قانون سازی اور سیاسی ہم آہنگی کی اُس اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جو باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے اور مشترکہ علاقائی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
خطے میں استحکام، توانائی تعاون اور امریکی دباؤ:
ایرانی اسپیکرباقر قالیباف کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے جو انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کا منصب سنبھالنے کے بعد کیا ہے، یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ بارہ روزہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایران کی کھل کر حمایت کی، قالیباف نے روانگی سے قبل تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ایک منفرد شراکت داری کے امکانات موجود ہیں جو وسطی ایشیا، مغربی ایشیا اور برصغیر تک پھیل سکتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ دورہ حالیہ معاہدوں پر عمل درآمد خصوصاً سرحدی تجارتی زونز سے متعلق اقدامات کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے،ان کے مطابق، اسلامی ممالک کو بیرونی مداخلت، خاص طور پر امریکہ کے اثر و رسوخ کے خلاف اتحاد و ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیےاور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے مسلم یکجہتی ضروری ہے۔
ایران وپاکستان تعلقات اور توانائی کی حقیقت:
سیاسی مبصرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ پاکستان اپنے پڑوسی ایران کو زیادہ بہتر جانتا ہے،معنی خیز مکالمہ ہے،ایران میں پالیسی ساز حلقے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاہم ایران اس بات کا معترف ہے کہ پاکستان نے ایران کے خلاف کسی بھی رجیم چینج منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کیا اور اس کی مخالفت کی۔
دونوں ممالک نے باہمی تجارت میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، مگر عملیت پسندی کا میدان اب بھی مشکلات سے بھرا ہے، ایران اور پاکستان کی قربت کی راہ میں صرف امریکی دباؤ ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کی نوکر شاہی (بیوروکریسی) بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، 1996ء میں ایران سے گیس درآمد کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد میں تاخیر کے باعث پاکستان ناقابلِ تلافی نقصان اٹھا چکا ہے لہٰذا اس منصوبے کی تکمیل حکومتِ پاکستان کی ترجیح ہونی چاہیے، پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر کی موجودگی کےمتعلق دیکھائے گئے سہانے خواب کی حقیقت سے کوسوں دور ہے، اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو اسے سستی توانائی درکار ہوگی، اور یہ ضرورت صرف ہمارا پڑوسی ملک ایران پوری کرسکتا ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

