ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو اسلامی جمہوریہ ایران اور غاصب ریاست کے درمیان براہ راست جنگ کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل تہران کو امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کررہا ہے، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور 15 جون کو اومان میں ہونا تھا اسرائیل کی جانب سے جمعے کے روز ایران کے خلاف فضائی حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد منسوخ ہوچکا ہے، اسرائیل کے حملوں کو اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان جنگ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے اہداف پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے جن میں ملک کا سب سے بڑا شہر تل ابیب بھی شامل ہے، دونوں ممالک نے اتوار کو رات بھر اور دن کے وقت حملوں کا تبادلہ جاری رکھا، اسرائیل نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا، تہران نے حیفا اور تل ابیب سمیت ایلات اور متعدد اسرائیلی اہداف پر میزائل داغے جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے، ہفتے کے روز عراقچی نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ ایرانی حکام جوہری ہتھیار نہ رکھنے کا پختہ یقین رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ جو لوگ پرامن مقاصد کیلئے ایران کو جوہری پروگرام رکھنے کے بنیادی حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہیں گے کیونکہ ایران کسی بھی صورت میں اپنے ایٹمی پروگرام کو معطل نہیں کرئے گا، وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ غاصب اسرائیل نے ہمیں(ایران) امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے یا سفارتی حل تک پہنچنے سے روکا ہے، عراقچی کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان منسوخ شدہ مذاکرات کے دوران کوئی پیش رفت ہوسکتی تھی کیونکہ مذاکرات کے پچھلے دور میں امریکیوں نے بہت سی تجاویز پیش کیں جو ہمارے لئے قطعی قابل قبول نہیں تھیں لیکن ایران نے ایسی تجاویز تیار کیں تھیں جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہوتیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہماری تجویز سے امریکیوں کے ساتھ ہمہ گیر معاہدے کے دروازے کھل سکتے تھے، اس سے قبل اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ واشنگٹن کا اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور تہران پر زور دیا کہ وہ سفارت کاری کی طرف لوٹے اور کہا کہ ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان آسانی سے ڈیل کراسکتے ہیں اور اس خونی تنازع کو ختم کرسکتے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران امریکہ کے اس دعوے پر یقین نہیں کرتا کہ وہ اسرائیلی جارحیت میں ملوث نہیں تھا، انہوں نے زور دیا کہ ہمارے پاس اس کے برعکس ثبوت موجود ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ کے خطے میں فوجی اڈوں نے اسرائیلی جارح فضائیہ کی بھرپور مدد کی ہے، ایران اور اسرائیل نے تیسرے دن جنگ میں مصروف رہے، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر تباہ کن حملے شروع کردیئے، اسرائیل کے مطابق اتوار کو ایرانی حملوں میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے، جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 13 ہوگئی، جبکہ اسرائیل کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے اور فضائی حدود تیسرے روز بھی بند ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 406 افراد شہید اور 654 زخمی ہوئے ہیں، ہفتے کی رات ایران کے ایک حملے میں حیفہ میں آئل ریفائنری میں لگی آگ اب تک قابو نہیں پایا گیا ہے، اُدھر روس نے اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتے کے روز امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات کی جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران کیساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

