رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے جو مسلمان دشمن قوتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت کے علمبردار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں نے حزب اللہ کے قائد سید حسن نصراللہ شہید کی تشیع جنازہ کے موقع پر اپنے ایک پیغام دشمن کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جبر اور استکبار کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ مقصد کے حصول تک جاری رہے گا، آیت اللہ خامنہ ای کا یہ پیغام اتوار کے روز بیروت میں مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے شہید رہنما سید حسن نصر اللہ اور ان کے نائب اور نامزد جانشین سید ہاشم صفی الدین کی نماز جنازہ کے ایک بڑے اجتماع پڑھا گیا، پیغام میں رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں کہا کہ دشمن کو ہوش میں رہنا چاہیے کہ غاصبانہ تسلط، جبر اور استکبار کے خلاف مزاحمت کبھی ختم نہیں ہوگی اور انشاء اللہ آخری مقصد کے حصول تک جاری رہے گی، انہوں نے شہید نصراللہ کو علاقے میں مزاحمت کا سرکردہ کمانڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب عزت کی بلندی پر ہیں، آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ نصر اللہ کی روح اور راستہ روز بروز مزید روشن ہوتا رہے گا جو ان کے پیروکاروں کی رہنمائی کرتا رہے گا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ صفی الدین کے کارنامے مزاحمتی قوتوں کیلئے تابناک مثال کے طور پر رہنمائی کرتے رہیں گے، شہدائے راہ حق مزاحمتی قیادت کا اٹوٹ حصہ رہیں گے اور اس خطے کی تاریخ میں ایک روشن رہنمائی کرتے رہیں گے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ان دو ممتاز شخصیات اور حال ہی میں شہادت پانے والے دیگر بہادر، خدا ترس جنگجوؤں کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کا خاص فضل ان کے ساتھ ہے، رہبر انقلاب اسلامی نے لبنانی بچوں اور بہادر جوانوں کو بھی خصوصی سلام پیش کیا، یاد رہے کہ شہید سید حسن نصراللہ 27 ستمبر 2024 کو جنوبی بیروت میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہوئے تھے، خفیہ اطلاع ملنے پر اسرائیلی بمباروں نے 85 ٹن بارودی مواد کا استعمال کرتے ہوئے ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس میں شہید حسن نصر اللہ موجود تھے، جب کہ سید صفی الدین 3 اکتوبر کو اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ 2024 امریکی انٹیلی جنس سے معلومات موصول ہونے پر حزب اللہ نے تشیع جنازہ کی تقریب پر اسرائیلی حملوں کے خدشے کے پیش نظر دونوں رہنماؤں کی تدفین ملتوی کر دی۔
سید حسن نصر اللہ کے حامیوں نے اتوار کے روز بیروت اور دحیہ کی سڑکوں پر حزب اللہ کے شہید رہنما اور سید ہاشم صفی الدین کے جنازے میں شرکت کی، کیملی چمون اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم اور آس پاس کا علاقہ سوگواروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جو لبنان کے دارالحکومت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقے دحیہ کی طرف جا رہے تھے، المنار کے نامہ نگار نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے ہی اسٹیڈیم کے اسٹینڈز تقریباً بھر چکے تھے جنکی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جس میں بے مثال اجتماع نظربند گیا گیا ہے، سیاہ لباس میں ملبوس سوگواروں نے لبنانی، فلسطینی، حزب اللہ اور امل کے جھنڈے کے ساتھ ساتھ لبنان پر تازہ ترین اسرائیلی جارحیت کے دوران شہید ہونے والے رہنماؤں اور جنگجوؤں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔
بدھ, فروری 18, 2026
رجحان ساز
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
- جیفری ایپسین فائلز واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کردیا
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

