بلوچستان کے ضلع خضدار میں گاڑی پر فائرنگ سے جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے 2 رہنما جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوگئے، اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ مقتولین میں غلام سرور اور مولوی امان اللہ شامل ہیں، جے یو آئی رہنماؤں کو سوراب سے واپسی پر تراسانی میں گاڑی پرگھات لگا کر نشانہ بنایا گیا، واقعےمیں دو افراد زخمی بھی ہوئے، اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال واقعے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے، اُدھر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کی حالت تشویشناک ہے لیکن مولانا فضل الرحمن اور عمر ایوب کہہ رہے ہیں کچھ اضلاع آزادی کا اعلان کرنے والے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ سڑکوں کو محفوظ بنانے اور آمد و رفت بحال رکھنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، حکومت کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ جب کوئی احتجاج کے لئے آتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ احتجاج ان کا ہے لیکن اس احتجاج کے مقام کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے، مجھے اس مسئلے کا حل طاقت کا استعمال نظر آرہا ہے، ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر حکام لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن لوگ چھوٹی سی بات پر سڑک پر آجاتے ہیں، ہمیں ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا ہوگا، اس کی اپنی احتیاطی تدابیر اور خدو خال ہیں حکومت سوچ بچار کرتی ہے، اُنھوں نے کہا کہ یہ ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ بات چیت سمیت دیگر آپشنز کے ذریعے سڑکیں کھلوائیں، خواتین اور شیر خوار بچوں کو سڑکوں پر لایا جاتا ہے حکومت کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل تمام پہلوئوں کو دیکھتی ہے، احتجاج کرنے والوں سے ایک بار پھر کہتا ہوں احتجاج کرنا ان کا حق ہے بلوچ عوام قومی شاہراہوں پر احتجاج نہ کریں، حکومت نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر سمیت مقامات کا تعین کردیا ہے وہ وہاں پر جاکر احتجاج کریں حکومت کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ طاقت کا استعمال کرے۔
دوسری طرف سندھ رینجرز اور سی ٹی ڈی نے ملیر میں مشترکہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد عسکری کاررائیوں میں ملوث بلوچ ریپبلکن آرمی سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب ملزم کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے اسلحہ و ایمونیشن برآمد کرلیا، ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم زبیر احمد عرف زبیو تمپ بلوچستان کا رہائشی ہے اور ملزم نے 2016 میں بی آر اے کے کمانڈر زرین عرف کرنٹ کے گروپ میں شمولیت ختیار کی۔ گرفتار ملزم نے 2016 میں معسکرغزن مکران بلوچستان سے 6ماہ کی عسکری تربیت حاصل کی، ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں بشمول کمانڈر زرین عرف کرنٹ کے ساتھ مل کر سیکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد عسکری کارروائیاں کیں اور سیکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا، ملزم نے دوران تفتیش مزید انکشاف کیا کہ 2016 میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر مند بھلو ایف سی چیک پوسٹ تمپ گریڈ اسٹیشن ایف سی کیمپ، رود بن ایف سی چیک پوسٹ پر راکٹ لانچر اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملے کیے۔ ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔
پیر, جنوری 19, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

