عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر دفاع، آئی پی پیز اور دیگر مدوں میں 344 ارب روپے کی گرانٹس دینے پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر ان اخراجات کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 344 ارب 64 کروڑ روپے اضافی خرچ کیے ہیں، وفاقی حکومت نے بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کو 115 ارب روپے کی گرانٹ دی گئی، دفاعی اخراجات کیلئے 59 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری طلب کی گئی، سندھ میں سیلاب متاثرین کیلئے 30 ارب روپے مختص کیے گئے، زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کیلئے 14 ارب روپے جاری کیے گئے، انسداد دہشت گردی کیلئے فوج کو 23 ارب روپے کی گرانٹ دی گئی، ٹیکنالوجی اپ گریڈ کیلئے 2 ارب روپے کی منظوری لی جائے گی، اسی طرح ریکوڈک منصوبے کیلئے 3.7 ارب روپے کی اضافی رقم جاری کی گئی، ایس آئی ایف سی کیلئے 52 کروڑ روپے کی گرانٹ جاری کی گئی، ارکانِ پارلیمنٹ کی اسکیموں کیلئے 7 ارب روپے جاری کیے گئے، ایف بی آر کو مختلف مد میں 6 ارب روپے کی گرانٹس دی گئیں جن میں سپریم کورٹ، ہائیکورٹ، وزارت داخلہ سمیت دیگر محکموں کے اخراجات شامل ہیں، دوسری طرف سپریم کورٹ بار نے فوجی جنرلز کی حمایت یافتہ حکومت کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایسے عوام دشمن بجٹ قرار دیا ہے، سپریم کورٹ بار کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بجٹ میں اشرافیہ کو نوازا گیا ہے کبکہ عام عوام کیلئے اس بجٹ میں کچھ نہین ہے اور لوگوں سے زندہ رہنے کا حق چھینا جارہا ہے۔
اُدھر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر نے وفاقی حکومت کے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرے اور اشرافیہ پر ٹیکسز لگائے، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ بجٹ 26-2025 میں کوئی اصلاحات، سرمایہ کاری اور سرمائے کے تحفظ اور فروغ دینے، صنعتی نشوونما، چھوٹے کاروباروں کے تحفظ، زرعی شعبے اور دیگر تمام حوالوں سے عملی اقدامات نظر نہیں آتے، انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر روایتی انداز سے اعداد وشمار کے ہیر پھیر کے ساتھ خسارے کا بجٹ پیش کر دیا گیا، حیران ہوں کہ کیسے معاشی منیجرز قرض اتارنے اور مملکت کے نظام کو چلانے کیلئے ایک بار پھر قرض لیں گے، ان کا کہنا تھا کہ خسارے کا بجٹ پیش کرنے پر خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں، حکومت متوازن بجٹ لائے جس کے نتیجے میں عام آدمی خوش حال ہو، صنعت اور تجارت کا پہیہ چلے، مہنگائی کا خاتمہ ہو، معیشت کو سود سے پاک کیا جائے، آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے اور مستقل، جامع اور طویل مدتی پالیسیاں بنائیں تاکہ پاکستان کو معاشی میدان میں مل کر ناقابل تسخیر بنا سکیں، کاشف چوہدری نے کہا کہ ایسا بجٹ جس میں قومی آمدن کا 47 فیصد یعنی ہمارے ٹیکسز کی آمدن کا 8 ہزار 200 ارب روپے صرف سود کی مد میں چلا جائے گا، اس کے متبادل قرض کو ختم کرنے کے لئے بجٹ میں کوئی عملی اقدام نظر نہیں آتا، انہوں نے کہا کہ بجلی کے بنیادی یونٹ کم اور 13 قسم کے ٹیکسز ختم کرنے کے بجائے مزید ٹیکسز لگا دیئے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سولر پینلز پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس نافذ کر دیا گیا۔
منگل, جنوری 20, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

