سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور ایک خفیہ ادارے نے مشترکہ طور پر مخبری کی بنیاد پر کراچی کے علاقے مچھر کالونی میں کارروائی کے دوران 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا جو کالعدم سندھو دیش ریولیوشنری آرمی (ایس آر اے) سے تعلق رکھتے ہیں، سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت سرمد علی رضا اور غنی امان چانڈیو کے ناموں سے ہوئی ہے، ان کے قبضے سے 2 دستی بم اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا، ادارے نے بتایا کہ دونوں ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے اور وہ مبینہ طور پر دہشت گردی کے 5 مقدمات میں ملوث ہیں جو حیدرآباد، جامشورو اور لاڑکانہ میں درج ہیں، سی ٹی ڈی نے ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور ایکسپلوسیو ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت 2 مقدمات درج کرلئے ہیں، بیان میں دونوں کو ایس آر اے کے مطلوب عسکریت پسند قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً سندھ پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، دوسری جانب پولیس اور رینجرز نے ہفتے کے روز مختلف کارروائیوں میں بھتہ خوری میں ملوث چار مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے خواجہ اجمیر نگری میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران 3 ملزمان اویس، شاہد اور ابوبکر کو گرفتار کیا، جو پولیس کے مطابق بہادر پی ایم ٹی گروپ نامی بھتہ خور گروہ کے رکن ہیں، ایک اور کارروائی میں پاکستان رینجرز (سندھ) نے خفیہ اطلاع پر لیاری کے نیا آباد علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے تنویر عرف ولاری کو گرفتار کیا، جو وسی اللہ لاکھو گروپ سے تعلق رکھتا ہے، رینجرز کے مطابق ملزم نے لیاری کے موسیٰ لین علاقے میں ایک بلڈر کو بھتہ کی پرچی بھیجی تھی جبکہ وہ جنوری 2025 میں پاک کالونی میں پولیس مقابلے کے مقدمے میں بھی مطلوب تھا، اسے 2024 میں بھی رینجرز نے گرفتار کر کے جیل بھیجا تھا۔
پاکستانی حکومت نے سندھ کے مسلح علیحدگی پسند گروہوں سندھو دیش ریولیوشنری آرمی (ایس آر اے) اور اسی تنظیم کی ذیلی شاخ سندھودیش لبریشن آرمی( ایس ایل اے) کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، مذکورہ کالعدم سندھی تنظیمیں صوبۂ سندھ کو پاکستان سے الگ کر کے ایک آزاد ریاست سندھو دیش بنانے کیلئے مسلح جدو جہد کررہی ہیں اس قسم کے سندھی مسلح گروپوں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہیں جو وقتاً فوقتاً قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت سرکاری تنصیبات اور چینی شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں، پاکستان کی انٹیلی جنس کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اِن گروہوں کی ہندوستان کی حکومت سرپرستی کررہی ہے جو پاکستان کی فالٹ لائینز کو زندہ رکھنے کیلئے وسائل صرف کررہی ہے، مقامی رپورٹس کے مطابق سندھ میں چھوٹے، الگ الگ گروہ 2007 کے بعد متحرک ہوئے جب سندھ میں پیپلزپارٹی نے فوجی جنرلز کے ذریعے این آر او حاصل کیا، جس کے نتیجے میں سندھ پیپلز پارٹی کے سپرد کردیا گیا، اس جماعت کو سندھ میں 15 سال سے زیادہ ہوچکا ہے مگر حکام کی بدعنوانی نے صوبہ سندھ میں مزید محرومیوں میں اضافہ ہوا ہے، سرکاری بیانات اور پاکستانی میڈیا 2010ء سے ان گروپوں کے پیچھے بیرونی حمایت کا الزام لگاتے ہیں جبکہ سندھو دیش کیلئے سیاسی جدوجہد کرنے والے متعدد رہنماؤں کو امریکہ منتقل کیا گیا ہے۔
پیر, جنوری 19, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

