ہندوستانی دارالحکومت نئی دہلی میں تاریخی لال قلعہ کے قریب دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں، پولیس ترجمان سنجے تیاگی نے بتایا کہ دھماکہ لال قلعہ کے نزدیک ایک کار میں ہوا، تاہم اس کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں اور تحقیقات جاری ہیں، پولیس کمشنر ستیش گولچا کے مطابق ایک سست رفتار گاڑی ٹریفک سگنل پر رکی تھی کہ اُس میں دھماکہ ہو گیا۔” جائے وقوعہ پر فرانزک اور انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین موجود ہیں، ہندوستانی ٹی وی چینلز کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 11 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے کے قریب اُس وقت ہوا جب لوگ دفاتر سے گھروں کو واپس جا رہے تھے، اطلاعات کے مطابق ایمبولینسیں زخمیوں کو قریبی سرکاری اسپتال پہنچایا، براہِ راست نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ایک مصروف سڑک پر میٹرو اسٹیشن کے قریب کئی گاڑیوں سے آگ اور دھواں بلند ہو رہا ہے، دہلی کے ڈپٹی فائر چیف نے بتایا کہ کم از کم چھ گاڑیاں اور تین آٹو رکشے آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے، جنہیں فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے بجھا دیا-
ایک عینی شاہد نے مقامی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ہم نے ایک زوردار آواز سنی اور ہمارے گھر کی کھڑکیاں ہل گئیں، پولیس نے جائے وقوعہ پر جمع ہونے والے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ مقامی میڈیا کے مطابق، نئی دہلی اور ممبئی دونوں شہروں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، ہندوستانی شہری ولی الرحمان نامی ایک مقامی دکاندار نے اے این آئی کو بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو میں دکان میں بیٹھا ہوا تھا دھماکہ بہت زوردار تھا، ایسا میں نے پہلے کبھی نہیں سنا، دلی فائر سروس کے مطابق انہیں شام چھ بج کر 55 منٹ پر کال موصول ہوئی، دہلی فائر سروس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع کے بعد سات آگ بجھانے والی گاڑیاں لال قلعہ میٹرو سٹیشن پر بھیجی گئی ہیں۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، انھوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ لال قلعے میٹرو اسٹیشن کے قریب کار میں دھماکے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس واقعے کی مکمل اور فوری تحقیقات کو یقینی بنانا چاہیے، خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ایل این جے پی ہسپتال کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد ہسپتال لائے گئے آٹھ افراد دم توڑ چکے تھے، دھماکے کے بعد لال قلعہ کے سامنے موجود چاندنی چوک کے بازار میں افراتفری مچ گئی اور دوکانیں بند کر دی گئیں، یہ دھماکہ ایک سلو موونگ کار میں ہوا ہے۔ جب دھماکہ ہوا تو اس وقت کار میں مسافر موجود تھے۔ دھماکے سے دوسری کاروں میں بھی آگ لگ گئی، لال قلعہ جو 17ویں صدی کی مغل دور کی یادگار ہے، دہلی کے قدیم حصے میں واقع ہے اور سال بھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ بھارت کا وزیرِاعظم ہر سال 15 اگست، یومِ آزادی کے موقع پر اسی قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتا ہے۔
پیر, جنوری 19, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

