اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں پر حملے جنگی جرم ہے۔ انھوں نے حالیہ دنوں میں غزہ میں امداد تقسیم کرنے والی سینٹر کے قریب عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، وولکر ترک کا کہنا ہے کہ لگاتار تین دنوں سے امریکہ۔اسرائیل کیا طرف سے قائم کردہ ایک امداد تقسیم کرنے والی جگہ کے قریب عام شہریوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں غذائی امداد کی معمولی مقدار تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے شہریوں پر حملے قابل مذمت ہیں، وولکر ترک نے مزید کہا کہ شہریوں کے خلاف ہونے والے حملے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو سب سے سنگین صورتحال کا سامنا ہے، بھوک سے مر جائیں یا پھر اسرائیلی عسکری ذرائع کی طرف سے تقسیم کردہ انسانی امداد سے کم خوراک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مارے جانے کا خطرہ مول لیں، وولکر ترک کا کہنا ہے کہ امداد تک رسائی کی جان بوجھ کر رکاوٹ ایک جنگی جرم بن سکتی ہے، بھوک کے خطرات 20 ماہ سے شہریوں کے قتل اور بڑے پیمانے پر تباہی، بار بار جبری نقل مکانی، ناقابل برداشت، انتہائی نامناسب الفاظ کا استعمال اور اسرائیل کی قیادت کی طرف سے (غزہ کی) پٹی کو خالی کرنے کی دھمکیاں، بھی بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین ترین جرائم کے زمرے میں آتی ہیں، اُدھر غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں 40 فسلطینی شہری شہید جبکہ 208 شہری زخمی ہوئے ہیں، وزرات کے اعدادوشمار کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک 54,510 فلسطینی مارے جا چکے ہیں اور اس دوران زخمی افراد کی تعداد 124,901 تک پہنچ چکی ہے۔
دوسری طرف یمن نے تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب داغا گیا میزائل روک لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دارالحکومت تل ابیب سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے، یمنی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری کا کہنا ہے کہ یمنی مسلح افواج کی میزائل فورس نے یافا کے علاقے میں ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، ااُن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کامیابی سے مکمل ہوئی اور ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن معطل کردیا گیا ہے، اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ میزائل ہدف تک پہنچ سکا یا نہیں البتہ یمنی ذرائع کا کہنا ہے یمنی فوج کا مسلسل میزائل حملوں کا مقصد لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اسرائیل کی فضائی ناکہ بندی کو یقینی بنانا ہے، واضح رہے کہ اسرائیل کیلئے متعدد ائیرلائنز نے اپنے آپریسنز معطل کردیئے ہیں جبکہ اسرائیل کی قومی ائیرلائن سمیت مختلف ائیرلائنز نے مسافروں کے انشورنس کی رقم بڑھا دی ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

