برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دو یورپی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی حکومتوں کو دستیاب ابتدائی انٹیلی جنس جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کے اہم جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے باوجود انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ محفوظ ہے، دستیاب انٹیلی جنس معلومات میں بتایا گیا ہے کہ ایران کا 408 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ فردو ایٹمی پلانٹ پر امریکی حملوں کے وقت وہاں موجود نہیں تھا اور جسے ایرانی حکومت نے ماہرین اور سائنسدانوں کی مدد سے نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا تھا، انٹیلی جنس رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ 408 کلو گرام انتہائی افزودہ یورینیم کو ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار سطح کے قریب افزودہ کرلیا گیا ہے، برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ مسئلہ امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے کہ جس میں وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا گیا ہے، صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ فردو ایٹمی پلانٹ سے افزودہ یورینیم سے نہیں نکالا گیا کیونکہ اس طرح کی کارروائی وقت طلب، خطرناک اور مشکل ہوتی ہیں، فنانشل ٹائمز کے مطابق یورپی حکومتیں اب بھی فردو کو پہنچنے والے نقصان کے مکمل تخمینہ کا انتظار کررہی ہیں، ایک ابتدائی رپورٹ میں وسیع نقصان کو مسترد کیا ہے اور ساختی نقصان کی طرف نشاندہی کی ہے، صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا میں لیک ہونے والی امریکی انٹیلی جنس کی ابتدائی تشخیص کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف چند ماہ پیچھے چلا گیا ہے جبکہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کی خاصی مقدار محفوظ ہے، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی پیر کو کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو نمایاں نقصان پہنچا ہے لیکن اس نے مکمل تباہی کے دعووں کو مبالغہ آرائی قرار دیا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق اس معاملے سے واقف تین یورپی عہدیداروں نے کہا کہ امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں کو حملوں کے بعد سے ایران کی بقیہ جوہری صلاحیتوں کے بارے میں قطعی معلومات فراہم نہیں کی ہیں اور مستقبل میں تہران کے ساتھ کس طرح مشغول ہونا ہے اس کے بارے میں واضح حکمت عملی فراہم کرنے سے بھی انکار کردیا ہے تاہم نیٹو اجلاس کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ اُن کا ملک ایران کیساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے جارہا ہے اور ممکنہ طور یہ مذاکرات اگلے ہفتے شروع ہونگے جبکہ تہران نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ وہ امریکہ کیساتھ بلواسطہ مذاکرات کا معطل سلسلہ دوبارہ شروع کرنے جارہا ہے، تہران کے بارے میں یورپی یونین کی پالیسی اس وقت تک ہولڈ ہے جب تک واشنگٹن جوہری مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے کیلئے کوئی نیا اقدام پیش نہیں کرتا، یورپ امریکہ کے فعل سے دوری اختیار رکھے گا، یورپی حکام کا کہنا تھا کہ ٹرمپ، یورپی رہنماؤں اگلے ہفتے ہونے والی بات چیت بھی کوئی واضح پیغام نہیں دے رہی ہے، ٹرمپ نے کل کہا تھا کہ واشنگٹن اگلے ہفتے تہران کے ساتھ بات چیت کرے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد شاید کسی معاہدے کی ضرورت نہ رہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

