تحریر : محمد رضا سید
پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ہوا، پاکستانی کی اپوزیشن جماعتوں میں سے بعض نے مختلف وجوہات کی بناء پر اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا، جس پر حکومتی نشستوں کے اراکین نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جم کر دُھنائی کی تاہم عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ پی ٹی آئی میری اجازت بغیر اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر سکتی ، یہ بات بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں اپنی بہن علیمہ خان سے ملاقات کے دوران کہی جب انہیں بتایا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا بلایا ہے، جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ اسی لئے میرا اخبار اور ٹی وی بند کیا گیا ہے، سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لے رہے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر بیان سامنے آیا ہے، جنھوں نے بلوچ قوم پرستوں سے بات چیت کرکے اس کا سیاسی حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک اور فوجی آپریشن کی جانب جانا تباہی کا آغاز ہو گا ،جس میں نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے، قومی اسمبلی کے اسپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اہم وفاقی وزرا اور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے اسٹریٹجک اور متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لئے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا ہے تاہم اس اجلاس میں تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کی چند جماعتیں شریک نہیں ہوئیں، اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے پروپیگنڈا پھیلانے، اپنے پیروکاروں کو بھرتی کرنے اور حملوں کو مربوط کرنے کے لئے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کی روک تھام کے لئے اقدامات پر زور دیا، اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے دہشت گردوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے سدباب کے لئے طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا، اعلامیے کے بعد فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے علیحدہ سے قومی سلامتی کے اجلاس سے آرمی چیف کے خطاب کی بھی تفصیلات پریس کو جاری کیں، آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری آرمی چیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں بہتر گورننس کے ساتھ پاکستان کو ایک سخت اسٹیٹ بنانے کی ضرورت ہے، ہم کب تک سافٹ اسٹیٹ کی طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے، دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی سے آرمی چیف کے خطاب سے ایسا لگتا ہے کہ بڑا فوجی آپریشن ہوگا جس کے ضمنی نقصانات (بیگناہوں کا جانی و مالی نقصان) بہت زیادہ ہوسکتا ہے کیونکہ ملک کو سخت ریاست میں تبدیل کیا جارہا ہے، جس کا ایک نظارہ ہم افغان مہاجرین کی واپسی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں جہاں انسانی حقوق کو پس پشت ڈالا جارہا ہے، اس ضمن میں اطلاعات ہیں کہ 31 مارچ 2025 تک آٹھ لاکھ افغانوں کو ملک بدر کردیا جائے گا، امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اپنے ملک کو سخت اسٹیٹ میں تبدیل کیا ہوا ہےتاہم وہاں عدالتیں آزاد ہیں جو ٹرمپ کے احکامات کا قانونی جائزہ لینے کیلئے اِن پر عملدرآمد کو روک رہی ہیں۔
سیاسیات میں ایک سخت ریاست سے مراد ایسی حکومت ہے جو مضبوط مرکزی اتھارٹی کا استعمال کرتی ہے اور سخت قوانین کا نفاذ کرکے شخصی آزادی کا گلہ گھونٹ دیتی ہے، قومی سلامتی کو انفرادی آزادیوں اور جمہوری عمل پر ترجیح دیا جانے لگتا ہے جبکہ پولیس، فوج اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کا غیر ضروری استعمال بڑھ جاتا ہے، جس کا ہم 2022ء کے بعد سے کچھ زیادہ ہی مشاہدہ کررہے ہیں، اس صورتحال میں آمرانہ طرز حکمرانی وجود میں آتا ہے جسے ریاست کے چند طاقتور افراد اکثر سیاسی مخالفت کو محدود کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کیلئے استعمال کرتےہیں ، اس کے علاوہ یہی طاقتور گروہ معاشی اور سماجی پالیسیوں پر نمایاں کنٹرول حاصل کرلیتا ہےاور رفتہ رفتہ عوامی نمائندگی پر پابندیاں لگنا شروع ہوجاتی ہیں، سخت ریاست کی یہ عمومی تعریف ہے پاکستان میں عام لوگوں کو سمجھنانے کیلئے فوجی یا نیم فوجی حکومت مراد لینا چاہیئے لیکن نیم فوجی حکمرانی تو یہاں 2022ء سے قائم ہے، پاکستان کے تناظر میں خوش گمانیاں رکھنا زیادہ نیک شگون ثابت نہیں ہوتا لہذا عوام کو پیش آمدہ حالات کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے، پاکستان کو ایک سخت ریاست میں تبدیل کرنے کے اعلان کے ایک روز بعد ہی پیکا ایکٹ پر زوردار عملدرآمد شروع ہوچکا ہے،صوبہ سندھ کے شہر دادو میں مبینہ طور پرافواہیں پھیلانے کے الزام میں پولیس نے 34 سے زائد سوشل میڈیا صارفین کو پیکا قانون کےتحت مقدمہ درج کیا ہے جبکہ راولپنڈی میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) قانون کے تحت ٹک ٹاکر کے خلاف پہلا مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ کے متن کے مطابق ملزم نے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر حکومت پاکستان، عسکری اداروں اور انٹیلی جنس سربراہان کے خلاف تضحیک آمیز ویڈیوز شیئر کر رکھی تھی، اس سے قبل دسمبر 2024 میں، ایف آئی اے نے اسلام آباد میں 150 سے زائد صحافیوں، وی لاگرز اور اینکر پرسنز کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کیا، صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں نے ان اقدامات کی مذمت کی اور انہیں آزادی اظہار رائے کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔
پاکستان ایک وفاقی ملک ہے یہاں سیاسی فیصلوں کیلئے مکالمہ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، پاکستان کو سخت ریاست بنانے سے ملک کے وفاقی نظام حکومت کو نقصان ہوسکتا ہے، یہ بات تینوں چھوٹے صوبوں کی سیاست کو پیش نظر رکھ کر کہی گئی ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ ہی نہیں دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے معاملے پر سندھ صوبے کے عوام سخت ناراض ہیں وہاں باغیانہ سوچ پنپنا شروع ہوچکی ہے حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنے کی بات کررہے ہیں، ناراض بلوچی، پختون اور سندھی پاکستانی ہیں جو اسلحہ اُتھا چکے ہیں اُن سے ہتھیار پھنکنے کیلئے شکایات دور کرنا ہونگی اور یہ کام عوام کی منتخب سیاسی قیادت ہی کرسکتی ہے۔
جمعرات, اپریل 3, 2025
رجحان ساز
- ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ خواتین کی رہائی کیلئے دھرنا عید کے تیسرے روز بھی جاری رہا انٹرنیٹ بند
- ہنگری نے اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر عملدآمد سے انکار کردیا
- جوہری معاہدہ کیلئے تیار ہیں دھمکیاں نہیں چلیں گی امریکہ سے بلواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،عراقچی
- ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر اقوام متحدہ امریکی صدر کے بیانات کی مذمت کرئے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی عالمی تجارت اور جنوبی ایشیائی ملکوں کی ٹیکسٹائل صنعت کیلئے خطرہ
- بلوچستان میں بدامنی، صوبے کے چار اضلاع کی حدود میں قومی شاہراہوں پر سفر پر جزوی پابندی عائد
- زیلنسکی مستعفی ہوجائیں تاکہ یوکرین میں جنگ بندی کیلئے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جاسکے، روسی مطالبہ
- گیس فیلڈ حملہ، یوکرین کی فنی مدد کرکے برطانیہ اور فرانس کی جنگی شعلوں کا رُخ موڑنے کی کوشش