پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی سربراہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے انتظامات کیلئے پنجاب حکومت کو ہدایت کردی ہے، اس سے قبل جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی جب اڈیالہ جیل پہنچے تو انہیں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے بانی سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی تھی، وزیر مملکت برائے ثقافت، سیاحت و ورثہ حذیفہ رحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے صوبائی حکومت کو کہا ہے کہ وہ سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کروائیں، انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آنے والے چند دنوں میں یہ ملاقات ہوجائے گی، وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو کہا ہے اس ملاقات کے انتظامات کروائے جائیں تاکہ خیبرپختونخوا میں کابینہ کی تشکیل ممکن ہوسکے، وزیر مملکت نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق صوبائی حکومت اس حوالے سے میکنزم تیار کررہی ہے جس کے بعد جلد ملاقات کا امکان ہے، حذیفہ رحمٰن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو عہدہ سنبھالنے پر کال کرکے مبارک باد دی، تاہم انہوں نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا اور میڈیا میں غلط بیانی کی، صوبے کے وزیراعلیٰ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ وزیراعظم پر تہمت لگائیں، وزیر مملکت نے مزید کہا کہ دھمکیاں دینا ہمیں زیب دیتا ہے، سب نے مل کر ملک کیلئے کام کرنا ہے، خیبرپختونخوا میں حالات سب کے سامنے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کو اشد ضرورت ہے کہ ہم ان کی سپورٹ کریں اور ہمیں اشد ضرورت ہے کہ سہیل آفریدی وہاں کی درست صورتحال ہمارے سامنے رکھیں اور جو فیصلہ وفاق کی سطح پر ہوں، انہیں درست انداز میں وہاں جا کر اس پر عمل درآمد کریں۔
واضح رہے کہ 16 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سربراہ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی تھی، جس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے عمران خان سے ملاقات کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا تھا، رجسٹرار آفس نے سہیل آفریدی کی درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے تاہم 20 اکتوبر کو عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ پنجاب، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 اکتوبر کیلئے نوٹس جاری کیے، یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کیلئے عمران خان سے مشاورت قانونی اور اخلاقی طور پر ضروری ہے تاکہ انتظامی اور سیاسی فیصلوں، بشمول کابینہ کی تشکیل پر پارٹی سربراہ کی رہنمائی حاصل کی جاسکے، پاکستان کے طاقتور حلقوں نے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنائے جانے میں رکاوٹ ڈالی مگر تحریک انصاف کے اتحاد نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔
منگل, جنوری 27, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

