تحریر: محمد رضا سید
ترکیہ میں صدر رجب طیب اردوگان کے اہم سیاسی حریف اور مقبول اپوزیشن رہنما کی گرفتاری کے بعد سے پولیس نے صحافیوں سمیت 1100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، اُدھر ترکی کی مرکزی سیاسی جماعت پیپلز ریپبلکن پارٹی نے جیل میں قید استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کو 2028ء کے صدارتی انتخاب کے امیدوار کے طور پر منتخب کرلیا ہے، پارٹی کے ایک ترجمان نے ان کی صدارتی نامزدگی کا اعلان کیا ہے، فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ ہفتے صدر اردوان کے اہم حریف اور استنبول کے میئر اکرام امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد استنبول میں مظاہرے ترکی کے 81 صوبوں میں سے 55 سے زائد صوبوں تک پھیل گئے، مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور اس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی، 53 سالہ مقبول سیاست دان اکرام امام اوغلو کو ترکی میں وسیع پیمانے پر ایک واحد سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو انتخابات میں ترکی کے طویل عرصے سے حکمران چلے آرہے رجب طیب اردوان کو شکست دے سکتے ہیں، اوغلو کو صرف چار دنوں میں استنبول کے میئر سے بدعنوانی اور دہشت گرد بنا دیئے گئے، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی پُر تشدد تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انہیں جیل بھیج کر میئر شپ سے بھی محروم کردیا گیا، واضح رہے ترکی کی ریپبلکن پیپلز پارٹی ترکیہ کی ایک اہم اپوزیشن جماعت اور پارلیمنٹ کی دوسری بڑی جماعت ہے، جس نے صدر اردوگان کے اس عمل کو سیاسی بغاوت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ادردوگان ملک کو آمرانہ انداز میں چلارہے ہیں اور حزب اختلاف کو سیای سرگرمیوں کیلئے اسپس تنگ کررہے ہیں، صدر اردوگان چاہتے ہیں کہ وہ تامرگ ترکیہ کے صدر رہیں تاکہ اُن کے خلاف انسانی حقوق کی خلاد ورزیوں، بدعنوانیوں اور بیرون ملک مداخلت کی تحقیقات نہ کھل سکیں، اردوگان حکومت نے 19 مارچ سے 23 مارچ کے درمیان کی احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کرنے والے 1,133 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، انقرہ کا کہنا ہے کہ ان میں 12 مختلف دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
ترکی میں صدر ایردوگان کے اہم سیاسی حریف اور استنبول کے میئر کو جیل میں ڈالے جانے پر احتجاجی مظاہروں کے دوران متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا، میڈیا ورکرز کی یونین نے پیر کو رپورٹ کیا کہ استنبول کے میئر کی گرفتاری کے بعد سے بڑھتے ہوئے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس دوران مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد صحافیوں کو گرفتار کرلیا، ترکی میں احتجاج کی کوریج پر مکمل سنسر شپ عائد ہے اور صدر اردوگان نے احتجاجیوں کو اسٹریٹ دہشت گردی قرار دیا ہے، اکرم امام اوغلو کو مجرمانہ تنظیم چلانے، رشوت لینے، بھتہ خوری اور غیر قانونی طور پر ذاتی ڈیٹا ریکارڈ کرنے کے شبے میں جیل بھیج دیا گیا تھا، جبکہ اوغلو ان الزامات کی تردید کر چُکے ہیں، ترکیہ کی ایک عدالت نے اوغلو کے خلاف دہشت گردی سے متعلق الزامات میں قید کی سزا سنانے کی درخواست مسترد کردی ہے تب بھی انہیں پراسیکیوشن کا سامنا ہے، صدر اردوگان سنہ 2003 سے ترک سیاست پر چھائے ہوئے ہیں اور اس دوران 2015ء میں ایک خونی فوجی بغاوت کا سامنا بھی کرچکے ہیں، صدر اردوگان نے سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کے مقابلے میں قطر کی حمایت کی جب سعودی عرب نے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ساتھ مل کر قطر کی ناکہ بندی کی تھی تاہم اب قطر کے حکمران خاندان اور سعودی شاہی حکومت کے درمیان تعلقات خوشگوار ہوچکے ہیں، یاد رہے قطر کی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے ناکہ بندی جون 2017 میں کی گئی تھی اور جنوری 2021 میں میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے قطر کے ساتھ تعلقات بحال کرلئے تھے، قطر نے خطے میں سعودی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے لئے ترکی اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے، جو سعودی عرب کے لئے ناقابلِ قبول تھا۔
ترکیہ کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے جن میں افراطِ زر کی بلند شرح اور کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی شامل ہیں، اس کے نتیجے میں بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور عوام کی زندگی مزید مشکل ہوگئی ہے، صدر اردوان کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کی پالیسی کو معاشی ماہرین کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، یہ پالیسی ترکیہ کی کرنسی کی قدر میں مزید کمی اور افراطِ زر میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، جس سے معاشی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے، معاشی مشکلات کے باوجود ترک صدر اردوگان نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اپنی پوری توجہ اور مالی وسائل شام کے سابق حکمران بشار الاسد کی حکومت گرانے پر لگادی، روس سے فضائی دفاعی نظام کی خریداری اور شام میں سیاسی نظام کی تبدیلی کیلئے روسی حمایت کے حصول کے بعد مغرب میں ترکیہ کی تنہائی بڑھ گئی ہے، امریکہ شام سے اپنی افواج کو نکالنا چاہتا ہے اور وہاں اپنے تربیت یافتہ مسلح گروہوں شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) اور عوامی تحفظ یونٹس (وائی پی جی) کا واضح اور قابل قبول رول چاہتا ہے لیکن صدر اردوگان نے اِن دونوں مسلح گروہوں کو کردستان ورکرز پارٹی کا جزو قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیدیا ہے جبکہ ترکی متعدد بار شام کے کرد علاقوں میں داخل ہوکر وائی پی جی کے مسلح گروہ کے خلاف فوجی آپریشن کرتا رہتا ہے، ترکی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ وائی پی جی سے تعلق ختم کرے لیکن امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایس ڈی ایف کو واشنگٹن کا اہم اتحادی سمجھتا ہے اور ان کی مدد جاری رکھے گا جبکہ ترکی احمد الشرع(سابقہ نام ابومحمد الجولانی) کی ھیئت تحریر الشام(ایچ ٹی ایس) کی حمایت کرتا ہے اور اسکو تخت دمشق پر بیٹھا دیا ہے، اِن وجوہات نے بھی صدر اردوگان کو ملک میں بہت کمزور کردیا ہے اور ایسا احساس جنم لے رہا ہے کہ اردوگان کو بھی بشار الاسد کی طرح کے انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور صدر ٹرمپ بھی ایسی ہی خواہش رکھتے ہونگے، اردوگان کی حکمران پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ (اے کے پی) کی مقبولیت میں زبردست کمی آئی ہے ایک حالیہ سروے میں اس کی پارٹی کی حمایت 30 فیصد سامنے آئی ہے جو کم وبیش دو دہائیوں میں کم ترین ہے، اردوگان نے اپوزیشن کو کچلنے کا جو طریقہ کار اپنایا وہ دنیا بھر میں ناکام ثابت ہوا ہے، اس بات میں پاکستان کیلئے ایک سبق ہے۔
جمعرات, اپریل 3, 2025
رجحان ساز
- ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ خواتین کی رہائی کیلئے دھرنا عید کے تیسرے روز بھی جاری رہا انٹرنیٹ بند
- ہنگری نے اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر عملدآمد سے انکار کردیا
- جوہری معاہدہ کیلئے تیار ہیں دھمکیاں نہیں چلیں گی امریکہ سے بلواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،عراقچی
- ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر اقوام متحدہ امریکی صدر کے بیانات کی مذمت کرئے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی عالمی تجارت اور جنوبی ایشیائی ملکوں کی ٹیکسٹائل صنعت کیلئے خطرہ
- بلوچستان میں بدامنی، صوبے کے چار اضلاع کی حدود میں قومی شاہراہوں پر سفر پر جزوی پابندی عائد
- زیلنسکی مستعفی ہوجائیں تاکہ یوکرین میں جنگ بندی کیلئے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جاسکے، روسی مطالبہ
- گیس فیلڈ حملہ، یوکرین کی فنی مدد کرکے برطانیہ اور فرانس کی جنگی شعلوں کا رُخ موڑنے کی کوشش